بھٹی وکرامارکا کا الزام، کالیشورم ٹنڈرس کے خلاف سنٹرل ویجلینس کمشنر سے رجوع ہونے کا اعلان
حیدرآباد۔/9 مئی، ( سیاست نیوز) سی ایل پی لیڈر بھٹی وکرامارکا نے تلنگانہ میں شراب کی فروخت کے آغاز پر شدید ردِعمل کا اظہار کیا اور شراب کی فروخت کیلئے پولیس کی سیکورٹی فراہم کرنے کو مضحکہ خیز قرار دیا۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے بھٹی وکرامارکا نے کہا کہ پولیس کی سیکورٹی میں شراب فروخت کی جارہی ہے جبکہ پولیس گزشتہ 45 دنوں سے کورونا لاک ڈاؤن کے نتیجہ میں عوام کی نقل و حرکت پر قابو پانے کے سلسلہ میں دن رات مصروف ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس ڈپارٹمنٹ کورونا وائرس کے خلاف جنگ میں آگے ہے اسی ڈپارٹمنٹ کو شراب کی فروخت کے حق میں استعمال کرنا افسوسناک ہے۔ بھٹی وکرامارکا نے کہا کہ کے سی آر حکومت خود شراب نوشی کی حوصلہ افزائی کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شراب کی دکانات پر سماجی فاصلہ کا کوئی تصور نہیں ہے۔ ایسے میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کا خطرہ بڑھ جاتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سستی شراب پینے والوں سے سماجی فاصلہ اور دیگر پابندیوں کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ شراب کی فروخت کے ذریعہ حکومت نے خود خلاف ورزیوں کی اجازت دی ہے۔ انہوں نے حکومت سے سوال کیا کہ کورونا وائرس کے بحران کے دوران شراب کی اجازت دینے کے پس پردہ کیا مقاصد ہیں۔ بھٹی وکرامارکا نے کہا کہ ایک طرف ملک وائرس سے پریشان ہے تو دوسری طرف حکومت نے 21,000 کروڑ کے ٹنڈرس طلب کئے ہیں تاکہ کالیشورم پراجکٹ کا پانی منتقل کیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ ریٹائرڈ انجینئرس اسوسی ایشن نے ٹنڈرس کی مخالفت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں حکومت پر 8000 کروڑ کا اضافی بوجھ آبپاشی کے کاموں کے سلسلہ میں پڑا ہے۔ تلنگانہ 3 لاکھ 21 ہزار کروڑ کا مقروض ہے ایسے میں مزید 21 ہزار کروڑ کا اضافی بوجھ عوام پر عائد کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس دور حکومت میں کسی قرض کے بغیر ہی پراجکٹس کی تکمیل کی گئی۔ انہوں نے تلنگانہ پراجکٹس کی تکمیل کے سلسلہ میں سنٹرل ویجلنس سے رجوع ہونے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ کمیشن کے حصول کیلئے بڑے پیمانے پر ٹنڈرس طلب کئے جارہے ہیں۔ کانگریس پارٹی کالیشورم ٹنڈرس کے مسئلہ پر سنٹرل ویجلینس کمشنر کو مکتوب روانہ کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کی صورتحال میں حکومت غریب خاندانوں کے تحفظ میں ناکام ہوچکی ہے۔
