پولیس کے انتباہ کے باوجود خواتین کا احتجاج

   

حیدرآباد ۔ /23 فبروری (سیاست نیوز) پولیس کمشنر حیدرآباد انجنی کمار کی جانب سے شہریت ترمیمی قانون اور این آر سی کیخلاف فلاش احتجاج نہ کرنے کے مشورہ کے اندرون 24 گھنٹے شہر کے مصروف ترین علاقہ مہدی پٹنم پر مرد و خواتین کا ایک زبردست احتجاج کیا گیا ۔ خواتین کے ایک گروپ جس کی قیادت خاتون جہدکار شیبامینائی اور شیراز خان و دیگر مہدی پٹنم چوراہا معراج ہوٹل پہونچ گئے اور اچانک احتجاج شروع کردیا ۔ اس بات کی اطلاع ملنے پر آصف نگر پولیس کی ایک ٹیم بھی وہاں پہونچ گئی ۔ احتجاجی سی اے اے ، این پی آر اور این آر سی کیخلاف نعرے بازی شروع کردی اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ یہ سیاہ قوانین کو فوری واپس لے لیا جائے ۔ اچانک احتجاج کے نتیجہ میں کچھ دیر تک مہدی پٹنم چوراہے پر ٹریفک کے بہاؤ میں خلل پیدا ہوگیا ۔ اس اچانک احتجاج کے خلاف پولیس نے ازخود کارروائی کرتے ہوئے آصف نگر پولیس اسٹیشن کے سب انسپکٹر شیخ برہان کی شکایت پر شیبامینائی ، شیراز خان ، بی سجیت ، انجیا ، ایم بنڈا گنیش ، ایم کمار ، عبدالجبار ، نجیب الدین اور دیگر کیخلاف تعزیرات ہند کے دفعہ 341 ، 188 اور 353 کے تحت ایک مقدمہ درج کرلیا گیا ہے ۔ پولیس نے بتایا کہ احتجاج کرنے والے افراد نے مہدی پٹنم پر احتجاج کیلئے پولیس کی اجازت طلب نہیں کی اور غیرقانونی طور پر جمع ہوگئے اور پولیس کو ان کی ڈیوٹی انجام دینے سے روکا ۔ گرفتار افراد کو شاہ عنایت گنج پولیس اسٹیشن منتقل کیا گیا اور شام میں انہیں نوٹس دے کر رہا کردیا گیا ۔