فوجداری مقدمات کے فیصلوں میں تاخیر کیلئے 1858 کا فرسودہ نظام ذمہ دار : جسٹس چلمیشور راؤ
حیدرآباد۔24ستمبر(سیاست نیوز) ہندستانی عدالتوں میں چلائے جانے والے فوجداری مقدمات کے فیصلوں میں تاخیر اور فیصلہ نہ ہونے کی کئی ایک وجوہات ہیں جن میں سب سے اہم ہندستان میں1858 کے فوجداری قوانین پر عمل آوری ہے۔سابق سپریم جج جسٹس جے چلمیشور نے آج دوسرے پروفیسر ایس وینو گوپال راؤ لکچر سے خطاب کے دوران یہ بات کہی۔جسٹس جے چلمیشور راؤ نے کہا کہ ملک میں پولیس انتظامیہ کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے اور اس مقصد کیلئے بڑے پیمانے پر کام کیا جانا چاہئے اور اصلاحات درکار ہیں۔انہوں نے بتایا کہ آج بھی ہم 1858کے فوجداری قوانین پر عمل پیرا ہیں جو کہ 3امور پر ہیں جن میں مقدمہ کا اندراج‘ تحقیقات اور فرد جرم عائد کیا جانا اور اس کے بعد وضع کردہ الزامات کو ثابت کرنا۔انہو ں نے بتایا کہ اکثر مقدمات میں کانسٹبل کے ذریعہ تحقیقات کروائی جاتی ہیں جو کہ تحقیقات کی تکنیک سے واقف نہیں ہوتا اسی لئے وہ تحقیقات کا عمل رائیگاں ثابت ہوتا ہے اور فیصلہ کی راہ میں رکاوٹ پیدا کرتا ہے۔ انہوں نے سی بی آئی تحقیقات کے مطالبوں کے سلسلہ میں کہا کہ سی بی آئی کی اپنی کوئی فورس نہیں ہے بلکہ سی بی آئی میں بھی ان عہدیداروں کو ذمہ داری تفویض کی جاتی ہے جو کہ ریاستی پولیس میں خدمات انجام دے رہے ہوتے ہیں ۔
جسٹس چلمیشور نے کہا کہ ریاستی پولیس کی جانب سے کی جانے والی تحقیقات پر عدم اطمینان کے سبب سی بی آئی تحقیقات کا مطالبہ کیا جاتا ہے جب سی بی آئی میں بھی ریاستی پولیس کے عہدیدار موجود ہوں تو اس کا کیا فائدہ ہوگا!انہو ںنے استفسار کیا کہ ریاستی پولیس میں رہنے تک جو عہدیدار نااہل اور نا قابل اعتماد ہوتا ہے اور سی بی آئی میں پہنچتے ہی وہ قابل اور قابل اعتماد بھی ہوجاتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ ملک میں فوجداری قوانین کو مزید مستحکم اور بہتر بنانے کی ضرورت ہے تاکہ مقدمات کی جلد یکسوئی کو ممکن بنایا جاسکے علاوہ ازیں تحقیقات کے طریقہ کار کو تبدیل کئے جانے کی ضرورت ہے۔ جسٹس چلمیشور نے کہا کہ ہندستانی عوام کے ذہن میں پولیس کے نام کے ساتھ خوف کا تصور پیدا ہوتا ہے جبکہ پولیس کے نام اور موجود گی سے شہریوں میں تحفظ کا احساس ہونا چاہئے لیکن ایسا مشکل سے ہوتا ہے۔ انہو ںنے موجودہ زمانہ میں قوانین کو بہتر بنانے کے علاوہ انصاف رسانی کے عمل کو تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جب تک انصاف رسانی کے عمل کو تیز کرتے ہوئے فوجداری معاملات کی جلد یکسوئی ممکن نہیں بنائی جاتی اس وقت تک انسانی حقوق کا تحفظ کیا جانا دشوار ہے