وارسا 20 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) پولش حکومت نے ایک نیا قانونی بل پیش کیا ہے جس میں بچوں کو جنسی تعلیم فراہم کرنے کو ’کم عمروں کو جنسی عمل کی ترغیب دینے‘ کے مترادف کہہ کر اسے قابل سزا جرم قرار دیا جا رہا ہے۔ پولش حکومت نے ایک نیا قانونی بل پیش کیا ہے جس میں بچوں کو جنسی تعلیم فراہم کرنے کو ‘کم عمروں کو جنسی عمل کی ترغیب دینے‘ کے مترادف کہہ کر اسے قابل سزا جرم قرار دیا جا رہا ہے۔نئے قانونی بل کے تحت سکولوں میں سیکس ایجوکیشن فراہم کرنے والے اساتذہ کو ‘پیڈوفیلیا‘ یا ‘کم عمروں کے ساتھ سیکس‘ کرنے کے مترادف قرار دیا جا رہا ہے اور اس قانون کے تحت ایسے ٹیچرز کو پانچ برس تک قید کی سزا سنائی جا سکے گی۔وارسا میں نئے مجوزہ قانون کے خلاف بڑی تعداد میں لوگوں نے ایک احتجاجی مظاہرے میں شرکت کی۔ پولستانی حکومت نے اس بل کو ‘سٹاپ پیڈوفیلیا‘ کا نام دیا ہے۔ایمنسٹی انٹرنیشنل سے وابستہ محقق آنا بلْس نے ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے اس قانون کو ‘اشتعال انگیز اور انتہائی مبہم‘ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا، ”یہ قانون نوجوانوں کو خطرے میں ڈال دے گا اور اس کے بھیانک نتائج نکل سکتے ہیں۔‘‘پولینڈ میں سن 2015 سے برسر اقتدار لا اینڈ جسٹس پارٹی (پی آئی ایس) اتوار کے روز ہی دوبارہ انتخابات جیت کر برسر اقتدار آئی ہے۔ دائیں بازو کی عوامیت پسند اور قدامت پرست سیاسی جماعت ہم جنس پرستی، جنسی تعلیم کے علاوہ اسقاط حمل کے بھی خلاف ہے۔ یہ سیاسی جماعت اپنی انتخابی مہم میں بھی انہی نکات کو بنیاد بنا کر قدامت پسند کیتھولک مسیحی ووٹروں کی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی ہے۔