پونچھ میں فوجی کیمپ پر پاکستان کے راکٹ حملے

,

   

’یوم یگانگت کشمیر‘ کے موقع پر ہندوستان کو مشتعل کرنے پڑوسیوں کی دانستہ اشتعال انگیزی
جموں ۔ 5 فروری (سیاست ڈاٹ کام) ایک فوجی افسر نے کہا ہے کہ پاکستان فوج نے جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جموں و کشمیر کے ضلع پونچھ میں خط قبضہ کے قریب کرشنا گھاٹی میں واقع ایک فوجی کیمپ پر راکٹ لاؤنچرس سے 2 راؤنڈ فائرنگ کی۔ اس فوجی افسر نے اپنی نام بتائے بغیر کہا کہ ’’پاکستان کی اس دانستہ اشتعال انگیز کے باوجود ہندوستانی سپاہیوں نے محض سرحدوں پر رہنے والے سیویلینس کو کسی گزند بچانے کیلئے جوابی کارروائی سے گریز کیا۔ انہوں نے کہا کہ کرشنا گھاٹی سیکٹر کے علاقہ جھولاس میں واقع فوجی کیمپ کو نشانہ بناتے ہوئے 10:30 دن فائرنگ کی گئی تھی تاہم کوئی بھی زخمی نہیں ہوا۔ ہندوستانی فوجی افسر نے مزید کہا کہ ’پاکستان آج چونکہ یوم یگانگت کشمیر منا رہا ہے اور ہندوستان کو ہر روز ردعمل اور فوجی کارروائی کیلئے اکسانے کے مقصد سے دانستہ طور پر اس کے کیمپ پر فائرنگ کی گئی تھی لیکن سرحدی علاقوں میں رہنے والے سویلینس کی زد میں آنے کا خطرہ چنانچہ ہندوستانی سپاہیوں نے جوابی کارروائی سے گریز کیا۔ جنگ بندی کی خلاف ورزی کے ساتھ پاکستان کی طرف سے کی گئی تازہ ترین فائرنگ کے ساتھ ہی سرحد پر گزشتہ چند دن سے جاری خاموشی ختم ہوگئی۔ واضح رہے کہ سال نو کے آغاز کے بعد سے پاکستانی افواج بالخصوص لائن آف کنٹرول پر جموں ڈیویژن میں جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزی کررہے ہیں۔ 15 جنوری کو بی ایس ایف کے اسسٹنٹ کمانڈنٹ ونئے پرساد اس وقت ہلاک ہوگئے تھے جب بین الاقوامی سرحد سے پاکستان کے ایک خفیہ نشانہ باز نے انہیں اشتعال انگیز فائرنگ کا نشانہ بنایا تھا۔ 11 جنوری کو ضلع راجوڑی میں لائن آف کنٹرول کے قریب ایک فوجی حمال ہلاک کردیا گیا تھا۔ اسی روز راجوڑی کے بعد نوشیرا سیکٹر میں لائن آف کنٹرول پر بشمول ایک میجر دو فوجی اہلکار بارودی مواد کے دھماکے میں فوت ہوگئے تھے۔