حیدرآباد میں بیوی اور تین سالہ بیٹی، پونے میں آٹھ سالہ لڑکی پریشان
حیدرآباد 14 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) کورونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کیلئے نافذ کردہ ملک گیر لاک ڈاؤن کے سبب شہر میں پھنسے ہزاروں افراد کو اپنے مقام پر واپس ہونے میں دشواریوں کے سبب سخت تکلیف کا سامنا ہے۔ ایسا ہی ایک واقعہ پونے کے ایک نوجوان آٹو موبائیلس بزنسمین بھرت کمار شاہ کا ہے وہ 22 مارچ کو میٹنگ کے سلسلہ میں ذریعہ کار حیدرآباد پہونچے تھے کہ 24 مارچ کی شب اچانک لاک ڈاؤن کا اعلان کردیا گیا اور وہ مسلسل پریشان ہیں۔ بھرت کمار شاہ کا کہنا ہے کہ وہ اپنی بیوی اور ایک تین سالہ لڑکی کے ساتھ حیدرآباد پہونچے تھے اور ایک آٹھ سالہ لڑکی پونے میں چھوڑ آئے ہیں جو کئی دن سے اپنے ماں باپ کے بغیر پریشانی کی حالت میں بار بار رونے پر مجبور ہوچکی ہے۔ بھرت کمار شاہ نے کئی مرتبہ پولیس سے درخواست کی کہ اُنھیں پونے روانہ ہونے کی اجازت دی جائے لیکن پولیس نے مشورہ دیا کہ لاک ڈاؤن کے سبب ٹریفک کی آمد و رفت پر پابندی ہے اور کچھ دن انتظار کیا جائے۔ بھرت شاہ نے کہاکہ وہ بیگم بازار میں اپنی جان پہچان کے افراد اور رشتہ داروں کے ہاں بھی چند دن رہ چکے ہیں لیکن کسی کو زیادہ تکلیف دیتے ہوئے شرمندگی محسوس ہوتی ہے۔ وہ واپسی کے لئے بے چین ہیں اور پولیس سے دردمندانہ درخواست کی کہ آٹھ سالہ تنہا لڑکی کی مدد کی خاطر اُنھیں پونے واپس ہونے کی اجازت دی جائے۔
