برلن : سابق جرمن چانسلر نے کہا کہ کشیدگی میں اضافہ کا سبب بننے والے ایسے منظرناموں سے بچنے اور خوف کو کم کرنے کیلئے پرامن حل پر سنجیدگی سے غور کیا جانا چاہیے۔ سابق جرمن چانسلر گیرہارڈ شروئڈر کا کہنا ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پوٹن کے ساتھ ان کی دوستی یوکرین جنگ ختم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے پوٹن کی طرف سے مبینہ ایٹمی حملہ کے امکان کو بھی بکواس قرار دیا۔جرمنی کے سابق چانسلر گیرہارڈ شروئڈر نے جمعرات کے روز شائع ہونے والے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پوٹن کے ساتھ مذاکرات ہی یوکرین کی جنگ کے خاتمہ کا واحد راستہ ہو سکتا ہے۔
جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے سے بات چیت میں انہوں نے کہا کہ ہم نے کئی برسوں تک ایک ساتھ مل کر بڑی سمجھداری کے ساتھ کام کیا ہے۔ شاید یہی چیز اب بھی ہمیں گفت و شنید کے ذریعہ حل تلاش کرنے میں مدد فراہم کر سکتی ہے۔ مجھے اس کے علاوہ کوئی دوسرا حل بھی نظر نہیں آتا ہے۔ سابق جرمن چانسلر نے پوٹن کی جانب سے نیوکلیر حملہ کرنے یا روس کی مشرقی سرحد کے ناٹو ملک پر حملہ کرنے سے متعلق ممکنہ قیاس آرائیوں کو بکواس قرار دیا۔ شروئڈر نے کہا کہ کشیدگی میں اضافہ کا سبب بننے والے ایسے منظرناموں سے بچنے اور خوف کو کم کرنے کے لیے، یوکرین کی حمایت کے ساتھ ہی پرامن حل پر سنجیدگی سے غور کیا جانا چاہیے۔