اپنے تین بچوں کے روشن مستقبل کو یقینی بنانے کے لیے 550 مکانات سے کوڑا کرکٹ جمع کرتی ہے
حیدرآباد ۔ 29 ۔ جولائی : خواتین کو کبھی یہ نہیں سوچنا چاہئے کہ ان میں تعلیم کی کمی ہے اور وہ زندگی میں کچھ نہیںب کرسکتی ۔ مشکلات کا سامنا کرنے کا حوصلہ نہیں رکھتیں ۔ اس کے برعکس خواتین کو یہ ماننا ہوگا کہ مشکل سے مشکل حالات میں بھی وہ اپنی زندگی کی گاڑی کو بڑے ہی سلیقہ سے آگے بڑھا سکتی ہے اور ہاں انہیں یہ یاد رکھنا چاہئے کہ زندگی میں محنت دیانتداری اور وقت کی قدر بہت اہم رکھتی ہے ۔ یہ خیالات کیرالا سے تعلق رکھنے والی برقعہ پوش خاتون اے رائنا کے ہیں جو دو جوان لڑکیوں اور ایک بیٹے کی ماں ہے جس نے بڑے ہی نامساعد حالات میں اپنی محنت سے تمام آزمائشوں کا مقابلہ کیا اور اب اپنے بچوں کو ایک باوقار زندگی دینے میں کامیاب ہوئی ہے ۔ اے رائنا کوئی انجینئر ڈاکٹر نہیں یا پھر پائلٹ ٹیکسی اور آٹو ڈرائیور نہیں بلکہ وہ پوکولم کا سرگوڈ کی پولور ۔ سپریار پنچایت سے تعلق رکھتی ہے اور کوڈمبا شری ورکر کی حیثیت سے کام کرتی ہے ۔ وہ صبح سے شام تک اپنی بائیک پر اپنے علاقہ کے کم از کم 550 مکانات سے کوڑا کرکٹ ناکارہ اشیاء اور پلاسٹک وغیرہ جمع کرتی ہے۔ اس طرح رائنا اپنے اس کام کے ذریعہ تینوں بچوں کی بڑے ہی اچھے انداز میں پرورش کررہی ہے ۔ انگریزی روزنامہ انڈین ایکسپریس میں اے رائنا کا انٹرویو شائع ہوا جن میں اس نے اپنی درد بھری کہانی سنائی اور بتایا کہ 8 ویں جماعت میں کامیابی کے بعد تعلیم کا سلسلہ ترک کروادیا گیا تھا اور 16 سال کی عمر میں شادی کردی گئی ۔ اس وقت رائنا اپنی بہتری کے لیے کوئی فیصلہ کرنے سے بھی قاصر تھی لیکن شادی کیا ہوئی اس کے لیے آزمائشوں کا دور شروع ہوگیا ۔ شوہر کوئی کام نہیں کرتا تھا تب رائنا کو اپنے اور ارکان خاندان کا پیٹ بھرنے کے لیے حرکت میں آنا پڑا ۔ اس نے چھوٹے موٹے کام کرنے شروع کردئیے جس سے بڑی مشکل سے گذارا ہوتا تھا ۔ سلوائی سیکھی ساتھ ہی روزگار طمانیت اسکیم کے تحت کام ملنے کی امید میں مقامی یونینوں میں نام بھی درج کروایا ۔ محنت کا سلسلہ جاری رکھا اگرچہ شادی کے ساتھ ہی مصیبتوں کا آغاز ہوچکا تھا لیکن پہلی بچی کی پیدائش پر آزمائشوں میں مزید اضافہ ہوگیا وہ رکی نہیں کام کرتی رہی ۔ یہاں تک کہ تیسرا بچہ بھی پیدا ہوا ۔ اس دوران وہ ہریتا کرما سپنا کی رکن بن گئی جو کدمباشری کی کوڑا کرکٹ سے پاک کیرالا کے لیے ایک پہل ہے ۔ رائنا کی زندگی میں کدمبا شری کا اہم کردار رہا ۔ اس تنظیم نے اسے کام دینا شروع کیا اور 5 برسوں تک اس کے لیے کام کرتی رہی ایک وقت آیسا بھی آیا جب تنظیم کے ذمہ داروں نے رائنا سے پوچھا کہ آیا وہ کوڑا کرکٹ جمع کرنے کے پروگرام میں شریک ہوگی ۔ جس پر اس نے اثبات میں جواب دیا ۔ وہ تو اپنے بچوں کی بہتر انداز میں پرورش کی خاطر سخت سے سخت محنت کرنے کے لیے تیار تھی ۔ بہرحال پہلے دو لوگ کوڑا کرکٹ پلاسٹک و دیگر ناکارہ اشیاء جمع کرنے لگے پھر دو کی بجائے ایک رائنا نے ہی یہ کام جاری رکھا ۔ اب یہ حال ہے کہ لوگ رائنا کو کال کر کے طلب کرتے ہیں اور وہ شام 5 اور 6 بجے بھی پلاسٹک و دیگر ناکارہ اشیاء اور کوڑا کرکٹ جمع کرنے پہنچ جاتی ہے ۔ رائنا کے مطابق خواتین اگر پختہ ارادہ کرلیں تو کسی بھی قسم کی پریشانی کا مقابلہ کرسکتی ہیں اور اپنے بچوں کے روشن مستقبل کو یقینی بنا سکتی ہیں ۔۔
( بشکریہ انڈین ایکسپریس )