حیدرآباد :۔ سائبر آباد کمشنریٹ کے تحت رائے درگم پولیس اسٹیشن سے وابستہ خاتون پولیس کانسٹبل ٹی نرملا نے 2014 میں پولیس فورس میں شامل ہوئیں ۔ لیکن صرف چند ماہ قبل انہیں نائٹ پٹرولنگ ڈیوٹیز پر مامور کیا گیا ۔ نرملا کی طرح کئی خاتون کانسٹبلس تلنگانہ ، بالخصوص شہر میں تین کمشنریٹس میں کبھی پولیس اسٹیشن کے اندر ہی ڈیوٹیز انجام دیا کرتی تھیں ۔ لیکن اب وہ محکمہ پولیس کی تمام ونگس میں بشمول فرسٹ اسپانڈر پٹرولنگ ڈیوٹیز کے لیے مردوں کے مساوی خدمات انجام دے رہی ہیں ۔ ریاست کے محکمہ پولیس کی جانب سے 2020 کے اختتام سے پٹرولنگ ڈیوٹیز کے لیے خواتین کی خدمات حاصل کرنا شروع کیا گیا ۔ اس اقدام کے بہت اچھے نتائج سامنے آرہے ہیں ۔ بالا نگر ڈی سی پی ، پی وی پدماجہ نے کہا کہ حالیہ رکروٹمنٹ کے ساتھ محکمہ پولیس میں خواتین کی تعداد تقریبا دوگنی ہوگئی ہے ۔ ’پٹرولنگ ڈیوٹیز کے علاوہ اب وہ جرائم کی تحقیقات کے سلسلہ میں دوسروں کی مدد کررہی ہیں ، ٹکنیکل ٹیمس میں شامل ہیں اور کورٹ ڈیوٹیز انجام دے رہی ہیں ۔ ‘ دو بچوں کی ماں نرملا کا کہنا ہے کہ پولیس فورس میں خواتین کی کمی کی وجہ پولیس اسٹیشنس سے رجوع ہونے والی دیگر خواتین کے مسائل سے نمٹنے کے سلسلہ میں ان کی ڈیوٹیز اکثر محدود ہوا کرتی تھی لیکن اب ہر پولیس اسٹیشن میں خواتین کی تعداد میں اضافہ سے ہم کو پولسنگ کی تمام ونگس میں کام کرنے کا موقع ہے ۔ چونکہ پٹرول ٹیمس فرسٹ رسپانڈرس ہوتی ہیں اس لیے ہم اسے ایک چیالنج کے طور پر دیکھتے ہیں ۔ میں میرے جاب سے خوش ہوں ۔ نرملا نے کہا کہ ’ رائے درگم شہر کے آئی ٹی کاریڈار میں واقع ہے ۔ اس لیے ہم کو رات میں عام طور پر خاتون ٹیکسیز سے وصول ہوتے ہیں جس میں کچھ ناگوار چیزوں سے متعلق شکایتیں کی جاتی ہیں ‘ ۔ کشائی گوڑہ پولیس اسٹیشن پر متعین کانسٹبل پی سواتھی نے کہا کہ ’رات میں کی جانے والی شکایتیں زیادہ تر فیملی یا الکحل کے استعمال کے مسائل سے متعلق ہوتی ہیں ۔ مردوں کے برعکس ہم کسی بھی وقت خواتین کے پاس پہنچ سکتے ہیں ۔ اس سے متاثرہ خواتین کے لیے ہم سے کھل کر بات کرنے میں بھی مدد ہوتی ہے ۔۔