50 روپئے فی لیٹر سربراہ کیا جاسکتا ہے، ٹیکسوں سے عوام پر بوجھ
حیدرآباد۔29 ۔جولائی (سیاست نیوز) پٹرولیم اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ کے خلاف تلنگانہ جنا سمیتی کے سربراہ پروفیسر کودنڈا رام نے ایک دن کی بھوک ہڑتال کی ہے۔ انہوں نے پارٹی کے دیگر قائدین کے ساتھ ایک روزہ احتجاج کیا جس میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ پٹرول ، ڈیزل اور پکوان گیس کی قیمتوں میں فی الفور کمی کی جائے کیونکہ عام آدمی مہنگائی سے پریشان ہیں۔ اس موقع پر میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کودنڈا رام نے الزام عائد کیا کہ عالمی مارکٹ میں خام تیل کی قیمت میں کمی کے باوجود مرکزی حکومت پٹرولیم اشیاء کی قیمتوں میں کمی کے لئے تیار نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قیمتوں میں اضافہ کی اہم وجہ زائد ٹیکسس ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عام آدمی 10 روپئے میں 4 روپئے پٹرول اور ڈیزل پر خرچ کر رہا ہے جبکہ 6 روپئے ٹیکسس کے طور پر حاصل کئے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکسوں میں کمی کے ذریعہ قیمتوں پر قابو پایا جاسکتا ہے ۔ ملک میں پٹرول اور ڈیزل فی لیٹر 50 روپئے فروخت کیا جاسکتا ہے بشرطیکہ حکومت ٹیکسوں کے نظام میں اصلاحات لائے اور عوام کی بھلائی کو پیش نظر رکھے۔ پکوان گیس 900 روپئے کے بجائے 400 روپئے فی سلینڈر سربراہ کی جاسکتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ عالمی مارکٹ میں خام تیل کی قیمتوں سے متعلق حکومت کا پروپگنڈہ دراصل عوام کو گمراہ کرنے کیلئے ہے۔ انہوں نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ اگر وہ قیمتوں پر قابو پانے میں ناکام ہے تو اسے اقتدار چھوڑ دینا چاہئے ۔ دوسری حکومتیں عوام کو کم قیمت پر پٹرول اور ڈیزل سربراہ کریں گی ۔ گزشتہ 7 برسوں میں ٹیکسوں کے ذریعہ 14 لاکھ کروڑ روپئے عوام سے حاص کئے گئے ہیں۔ ٹیکسوں کے نام پر عوام کی لوٹ کا سلسلہ فوری بند ہونا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت اپنے ٹیکسوں میں کمی کے ذریعہ عوام کو راحت پہنچا سکتی ہے۔ کے سی آر حکومت ایک طرف پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کی مخالفت کر رہی ہے لیکن ریاستی ٹیکسوں میں کمی کے ذریعہ عوام کو راحت پہنچانے تیار نہیں ہے۔ کودنڈا رام نے کہا کہ پڑوسی ممالک میں پٹرولیم اشیاء کی قیمتیں قابو میں ہیں ۔ ہندوستان دیگر ممالک کیلئے مثال بن سکتا ہے لیکن حکمرانوں کو عوام کی بھلائی سے کوئی دلچسپی نہیں۔