پٹرولیم اشیاء کی قیمتیں اور امن و ضبط کی صورتحال اہم انتخابی موضوع

,

   

گریجویٹ ایم ایل سی نشستوں کی مہم عروج پر، سرکاری ملازمین اور طلبہ پر تمام جماعتوں کی نظریں
حیدرآباد۔ گریجویٹ زمرہ کی 2 ایم ایل سی نشستوں کی انتخابی مہم میں مہنگائی، پٹرول و ڈیزل اور پکوان گیاس کی قیمتوں میں اضافہ اور حالیہ عرصہ میں ایڈوکیٹ جوڑے کے قتل جیسے معاملات اہم انتخابی موضوع بن چکے ہیں۔ برسراقتدار ٹی آر ایس دونوں حلقوں میں کامیابی کیلئے اپنی طاقت جھونک چکی ہے لیکن اپوزیشن امیدواروں کی جانب سے اٹھائے جانے والے مسائل نے حکومت اور پارٹی کو دفاعی موقف میں کردیا ہے۔ بے روزگار نوجوانوں کو ماہانہ الاؤنس کی ادائیگی، سرکاری محکمہ جات میں تقررات اور سرکاری ملازمین کیلئے پی آر سی سفارشات کو اپوزیشن کی جانب سے انتخابی موضوع بنایا جارہا تھا لیکن انتخابی مہم میں شدت کے ساتھ ساتھ مسائل میں اضافہ دیکھا جارہا ہے۔ برسر اقتدار پارٹی انتخابی ضابطہ اخلاق کا بہانہ بناکر پی آر سی اور بے روزگاری الاؤنس پر مابعد انتخابات عمل آوری کا وعدہ کررہی ہے لیکن حکومت کے وعدوں پر گریجویٹ رائے دہندے بھروسہ کرنے کیلئے تیار دکھائی نہیں دیتے۔ ٹی آر ایس نے دونوں نشستوں کی انتخابی مہم میں 10 سے زائد وزراء کو مشغول کردیا ہے جبکہ 50 سے زائد ارکان اسمبلی و کونسل کو مہم کی مختلف ذمہ داریاں دی گئی ہیں۔ 14 مارچ کو ہونے والے چناؤ میں اس پارٹی کا پلڑلہ بھاری ہے اس بارے میں فوری طور پر کہا نہیں جاسکتا کیونکہ صورتحال کے اعتبار سے انتخابی موضوعات دن بہ دن تبدیل ہورہے ہیں۔ کانگریس پارٹی پٹرول، ڈیزل اور پکوان گیاس کی قیمتوں و مہنگائی کے مسئلہ پر بیک وقت ٹی آر ایس اور بی جے پی کو نشانہ بنارہی ہے۔ بی جے پی مہنگائی کیلئے ریاستی حکومت کی پالیسیوں بالخصوص اضافی ٹیکسیس کو ذمہ دار قرار دے رہی ہے۔ قیمتوں میں اضافہ اور خاص طور پر پٹرولیم اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ سے ہر گھر متاثر ہوا ہے لہذا رائے دہندے کس پارٹی کے حق میں اپنی رائے دیں گے اس بارے میں سیاسی جماعتیں تجسس میں مبتلاء ہیں۔ کانگریس نے گذشتہ دنوں ایڈوکیٹ جوڑے کے قتل کو اہم انتخابی موضوع بناتے ہوئے ریاست میں امن و ضبط کی ابتر صورتحال کا الزام عائد کیا۔ کے ٹی راما راؤ، ہریش راؤ اور دیگر وزراء کی جانب سے سرکاری ملازمین اور نوجوانوں سے مختلف وعدے کئے جارہے ہیں۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ انتخابی مہم کا بدستور جائزہ لے رہے ہیں اور مہم میں مصروف وزراء اور عوامی نمائندوں سے مسلسل ربط میں ہیں۔ سابق میں کونسل کی نشستوں کے انتخابات کے برخلاف اس مرتبہ صورتحال کچھ زیادہ ہی مختلف ہے۔ پہلی مرتبہ رائے دہندوں میں مسائل کی بنیاد پر امیدواروں کی تائید کا رجحان دیکھا جارہا ہے۔ گریجویٹ ووٹرس زیادہ تر سرکاری ملازمین، ٹیچرس اور طلبہ ہوتے ہیں لہذا وہ جذبات میں تائید یا مخالفت کی بجائے ان کے ساتھ حکومت کے رویہ کو بنیاد بنا کر کسی بھی امیدوار کی تائید کا فیصلہ کریں گے۔