مرکز کے بعد اب ویاٹ میں کمی کرنا ریاستی حکومت کا ذمہ
حیدرآباد۔ 4 نومبر (سیاست نیوز) مرکزی حکومت کی جانب سے پٹرول اور ڈیزل پر اکسائز میں علی الترتیب5اور 10 روپئے کی کمی کے بعد شہر میں پٹرول کی قیمت108روپئے 20 پیسے رہی جبکہ گذشتہ یوم پٹرول کی قیمت 114روپئے 49 پیسے تھی۔اسی طرح ڈیزل کی قیمت 94روپئے 62 پیسے رہی جو کل 107 روپئے 40 پیسے تھی ۔ دونوں شہر وں حیدرآباد و سکندرآباد میں پٹرول و ڈیزل کی قیمت میں کمی کے بعد شہریوں کو توقع ہے کہ حکومت تلنگانہ بھی آسام‘ کرناٹک‘ گوا کے علاوہ دیگر ریاستوں کی طرح ویاٹ میں کمی کا فیصلہ کرکے عوام کو راحت پہونچانے آگے آئیگی ۔ مرکزی حکومت کی جانب سے پٹرول پر 5روپئے اور ڈیزل پر 10 روپئے اکسائز ٹیکس میں کمی کے بعد ریاستی حکومتوں سے ویاٹ میں کمی کی اپیل کی تھی جس پر بیشتر حکومتوں نے عوام کو راحت پہنچانے ویاٹ میں کمی لائی ہے لیکن تلنگانہ حکومت نے اس طرح کا کوئی فیصلہ نہیں کیا او رنہ ہی اس پر غور کیا جا رہاہے جبکہ حکومت تلنگانہ کی جانب سے پٹرول پر 35 فیصد ویاٹ وصول کیا جا تا ہے ۔ حکومت سے ویاٹ میں 10 روپئے کی کمی کی جاتی ہے تو تلنگانہ میں پٹرول کی قیمت 100 روپئے سے کم ہوسکتی ہے ۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر حکومت ڈیزل اور پٹرول پر ویاٹ میں کمی کرتی ہے حمل و نقل اور کرایوں میں کمی کے امکانات پیدا ہوسکتے ہیں جو کہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ کو روکنے کا سبب بنیں گے۔ پٹرول پمپ مالکین کا کہنا ہے کہ کرناٹک کی جانب سے ویاٹ میں 10 روپئے کی کمی کے فیصلہ کے بعد تلنگانہ میں پٹرول اور ڈیزل کے کاروبار پر بھی منفی اثرات کے امکانات پیدا ہوں گے کیونکہ مہاراشٹرا‘ آندھراپردیش جانے والی گاڑیاں جو کہ کرناٹک سے ہوکر گذرتی ہیں ان ریاستوں اور شہروں میں پٹرول خریدنے کو ترجیح دی جاتی ہے جہاں قیمت کم ہواور اب کرناٹک میں مرکزی حکومت کی تخفیف کے علاوہ 10 روپئے کم کئے گئے ہیں تو ڈرائیورس جو طویل مسافت طئے کرتے ہیں انہیں کرناٹک میں پٹرول و ڈیزل کی خریدی میں فائدہ نظر آئے گا اور ٹرانسپورٹ کمپنیو ںکی جانب سے بھی کرناٹک میں ہی پٹرول اور ڈیزل کی خریدی پر دباؤ ڈالا جائے گا۔م