کوئلہ اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ کے بعد مرکزی حکومت کا فیصلہ ، صارفین کو سبسیڈی فراہم کرنے کا ریاستوں کو اختیار
حیدرآباد ۔ 15 ۔ نومبر : ( سیاست نیوز ) : عالمی مارکٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہونے کا بہانہ کرتے ہوئے ملک میں پٹرولیم کمپنیوں کی جانب سے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں پر یومیہ نظر ثانی کی جارہی ہے ۔ اس طرح مہینے میں ایک یا دو مرتبہ پکوان گیس کی قیمتوں میں اضافہ کیا جارہا ہے ۔ اس طرح اب برقی صارفین پر بھی قیمتوں میں ایک ساتھ اضافی بوجھ عائد کرنے کے بجائے ماہانہ بوجھ عائد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ مرکزی حکومت نے سنسنی خیز فیصلہ کرتے ہوئے ماہانہ اضافی برقی قیمتیں وصول کرنے کے تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو احکامات جاری کئے ہیں ۔ مرکزی محکمہ برقی نے کہا کہ کوئلہ اور گیس کی قیمتوں میں دن بہ دن اضافہ ہورہا ہے جس کا برقی سربراہ کرنے والی کمپنیوں پر بوجھ بڑھ رہا ہے ۔ نقصانات کو گھٹانے کے لیے فیول سرچارج اڈجسٹمنٹ ( ایف ایس اے ) برقی صارفین سے وصول کرنے کی منظوری دی گئی ہے ۔ مرکزی وزارت برقی نے گذشتہ ماہ 22 اکٹوبر کو برقی کے قواعد 2021 کا اعلان کیا تھا ۔ اضافی بوجھ پر قابو پانے کے لیے ایک فارمولہ تیار کیا گیا ۔ ریاستوں کے ای آر سیز کی جانب سے اپنا ذاتی فارمولہ تیار کرنے تک اس پر عمل آوری کرنے کی تمام ریاستوں کو ہدایت دی گئی ہے ۔ ایک طرف کوئلہ کی قیمتوں میں اضافہ ہورہا ہے تو دوسری طرف فروخت شدہ کوئلے کی مقررہ وقت پر قیمت وصول نہیں ہورہی ہے جس کی وجہ سے برقی سربراہ کرنے والی کمپنیاں بحران کا شکار ہورہی ہیں اس کا برقی پیداوار پر بھی اثر پڑرہا ہے ۔ جس سے برقی خرید کر صارفین کو سربراہ کرنے والے برقی ادارے ڈسکامس صارفین سے اضافہ قیمت وصول نہیں کرپارہے ہیں ان تمام دشواریوں کی وجہ سے معیاری برقی کی سربراہی بھی متاثر ہورہی ہے ۔ مرکزی حکومت نے ڈسکامس کو اپنے اوپر عائد ہونے والے اضافی بوجھ کو صارفین سے وصول کرنے کی گنجائش فراہم کی ہے ۔ عالمی مارکٹ میں کوئلہ کی قیمتوں میں 30 تا 40 فیصد اضافہ ہوگیا ہے ۔ ساتھ ہی گیس کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے ۔ جس سے برقی پیداوار کی قیمتوں میں بھی زبردست اضافہ ہوگیا ہے ۔ حال ہی میں ملک کی مختلف ریاستوں میں برقی بحران کے منڈلاتے ہوئے بادل بھی دیکھے گئے جس کو کنٹرول کرنے کے لیے یہ فیصلہ کیا گیا ہے ۔ آج سے 10 سال قبل متحدہ آندھرا پردیش میں اس اسکیم پر عمل آوری کی گئی تھی تاہم تب سال میں ایک مرتبہ برقی کی قیمتوں میں نظر ثانی کرنے کی اجازت دی گئی تھی ۔ موجودہ بی جے پی کے زیر قیادت این ڈی اے حکومت نے ہر ماہ برقی کی قیمتوں میں نظر ثانی کرنے کی اجازت دی ہے ۔ تاہم اس وقت کئی ریاستوں نے سال میں ایک مرتبہ بھی برقی کی قیمتوں میں اضافہ کرنے کی اجازت نہیں دی تھی ۔ ریاست تلنگانہ میں گذشتہ 6 سال سے ایک مرتبہ بھی برقی شرحوں میں اضافہ نہیں ہوا ہے ۔ لیکن اب ہر ماہ برقی قیمتوں میں اضافہ ہونے کا امکان ہے ۔ متحدہ آندھرا پردیش چیف منسٹر این کرن کمار ریڈی کے دور حکومت میں ایندھن سرچارج وصول کیا گیا تھا مگر ہائی کورٹ نے اس پر روک لگادی تھی 10 سال بعد مرکزی حکومت نے ایف ایس اے اسکیم کو دوبارہ متعارف کرایا ہے ۔ مرکزی حکومت نے برقی کے نئے قواعد متعارف کرانے کے ساتھ برقی قانون کے سیکشن 65 میں برقی صارفین پر بوجھ عائد ہونے سے روکنے کے لیے سبسیڈی فراہم کرنے کی ریاستوں کو سہولت بھی فراہم کی ہے ۔۔ ن