کاروبار میں 60 فیصد تک گراوٹ ، ہوٹلس کے مینو میں تخفیف ، ڈیلیوری بوائز پریشان حال
حیدرآباد۔26۔مارچ(سیاست نیوز) پٹرول ‘ ڈیزل اور گیس کی قلت کے نتیجہ میں جو صورتحال پیدا ہوئی ہے اس کے اثرات GIG ورکرس پر فوری اثر کے ساتھ مرتب ہونے لگے ہیں اور انہیں حاصل ہونے والے کاروبار میں زائد 60 فیصد تک کی گراوٹ ریکارڈ کی جانے لگی ہے۔دونوں شہروں حیدرآبادوسکندرآباد کے علاوہ ریاست کے شہری علاقوں میں جہاں OLA‘UBER‘ ZOMATO‘SWIGGY کے علاوہ RAPIDOکی خدمات موجود ہیں ان کے استعمال میں کمی دیکھی جانے لگی ہے کیونکہ ان خدمات کا مکمل انحصار پٹرول ‘ ڈیزل اور گیس پر ہی ہے۔ ابتداء میں جب کمرشیل گیس کی قلت کا آغاز ہوا تو ریستوراں اور ہوٹلوں میں مینو کی تخفیف کے بعد غذائی اشیاء کی ڈیلیوری کرنے والے پلیٹ فارمس کو نقصان کا سامنا کرنا پڑرہا تھا لیکن اب جبکہ پٹرول اور ڈیزل کی قلت اور پٹرول پمپ پر قطاروں کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے تو ایسی صورت میں وہ تمام پلیٹ فارمس جو مختلف خدمات فراہم کرتے ہیں ان سے منسلک عملہ کو مشکل صورتحال کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔دونوں شہروں حیدرآباد وسکندرآباد میں مصروف ترین اوقات کے دوران ڈیلیوری بوائز اور رائیڈرس کو پٹرول پمپ کی قطاروں میں کھڑا ہونا پڑرہا ہے جس کے نتیجہ میں وہ کاروبار نہیں کرپا رہے ہیں۔ شہری جو کہ یہ خدمات گھر بیٹھے حاصل کرنے کے عادی ہوچکے ہیں وہ SWIGGY کی جانب سے پلیٹ فارم فیس میں اضافہ کئے جانے پر برہمی کا اظہار کر رہے ہیں جبکہ فوڈ ڈیلیوری بوائز جن کا مکمل انحصار ان پلیٹ فارمس پر ہے وہ پریشان ہونے لگے ہیں۔ ریستوراں اور ہوٹلوں کے مالکین کا کہناہے کہ ان پلیٹ فارمس کی جانب سے فیس میں اضافہ کئے جانے کے نتیجہ میں آن لائن آرڈرس کے حصول میں نمایاں کمی ریکارڈ کی جانے لگی ہے اور گیس کی قلت کے سبب ریستوراں میں کئے جانے والے قیمتوں میں اضافہ کا بھی منفی اثر اب دیکھا جا رہاہے۔شہر حیدرآباد کی کئی سرکردہ ریستوراں اور ہوٹلوں نے آن لائن پلیٹ فارمس پر کاروبار کو محدود کرنا شروع کردیا ہے اور کہا جارہا ہے کہ ان پلیٹ فارمس سے حاصل ہونے والے آرڈرس کی تعداد میں ریکارڈ کی جانے والی کمی انہیں ایسا کرنے پر مجبور کر رہی ہے پلیٹ فارم اور اس سے جڑے تاجرین کو ڈیلیوری بوائز کے مسائل پر بھی غور کرنا چاہئے ۔3