مرکزی حکومت کا بڑا فیصلہ ، پٹرول پر فی لیٹر 13 روپئے ، ڈیزل پر فی لیٹر 10 روپئے ڈیوٹی میں کمی
حیدرآباد ۔ 27 ۔ مارچ : ( سیاست نیوز) : بین الاقوامی بازار میں خام تیل کی مسلسل بڑھتی ہوئی قیمتوں کے پیش نظر مرکزی حکومت نے عوام کو کچھ حد تک راحت فراہم کرنے کے لیے پٹرول اور ڈیزل پر عائد ایکسائز ڈیوٹی میں کمی کرنے کا اعلان کیا ہے ۔ حکومت کی جانب سے لیے گئے اس فیصلے کے مطابق پٹرول پر ایکسائز ڈیوٹی میں 13 روپئے فی لیٹر کی کمی کی گئی ہے ۔ جب کہ ڈیزل پر 10 روپئے فی لیٹر کی کمی کی گئی ہے ۔ مرکزی حکومت کے اس اہم فیصلے کے بعد ملک بھر میں عوام کے درمیان یہ امید پیدا ہوئی ہے کہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھنے کو ملے گی ۔ تاہم ماہرین اور مارکیٹ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ زمینی سطح پر صارفین کو فوری طور پر اس کا فائدہ ملنے کا امکان کم ہے ۔ ماہرین کے مطابق اس کی سب سے بڑی وجہ تیل کی مارکیٹنگ کرنے والی سرکاری کمپنیاں ہیں ۔ جن میں BPCL ، IOCL اور HPCL شامل ہیں ۔ جو گذشتہ کئی ہفتوں سے بھاری مالی نقصان کا سامنا کررہی ہیں ۔ عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باوجود ان کمپنیوں نے قیمتوں میں اسی رفتار سے اضافہ نہیں کیا ہے جس کے باعث انہیں فی لیٹر پٹرول پر تقریبا 24 روپئے اور ڈیزل پر 30 روپئے تک کا نقصان برداشت کرنا پڑرہا ہے ۔ ذرائع کے مطابق یہ کمپنیاں حکومت کی جانب سے ایکسائز ڈیوٹی میں دی گئی اس چھوٹ کو اپنے پچھلے نقصانات کی تلافی کے لیے استعمال کرسکتی ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ پٹرول پمپس پر قیمتوں میں فوری کمی نظر آنے کا امکان کم بتایا جارہا ہے ۔ ماہرین کایہ بھی کہنا ہے کہ اگر بین الاقوامی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں اس طرح بڑھتی رہی تو مستقبل میں قیمتوں پر دباؤ برقرار رہے گا ۔ جس سے صارفین کو مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے ۔ دوسری جانب اگر عالمی قیمتوں میں استحکام آتا ہے تو تب ہی مقامی سطح پر قیمتوں میں کمی ممکن ہوسکے گی ۔ اقتصادی ماہرین کے مطابق حکومت کا یہ اقدام وقتی طور پر مالی بوجھ کو کم کرنے کی کوشش ضرور ہے لیکن اس کے مکمل فائدے عوام تک پہونچنے میں وقت لگ سکتا ہے۔ ایسے میں عام صارفین کو فوری ریلیف کے لیے ابھی مزید انتظار کرنا پڑ سکتا ہے ۔۔ 2