اوپیک ممالک کے ساتھ روس کے تیل کی درآمد کے معاہدہ کی تجدید متوقع
ریاض ۔ 14 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) صدر روس ولادیمیر پوٹن سعودی عرب کے دورہ پر پیر کے دن ریاض پہنچ گئے جس میں امکان ہیکہ وہ خام تیل کے معاہدات کو قطعیت دیں گے اور کوشش کریں گے کہ بین الاقوامی برادری مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں اضافہ پر قابو پا لیں گے۔ ملک سلمان اور ان کے فرزند ولیعہد شہزادہ نے صدر روس کا خیرمقدم کیا۔ وزیرخارجہ روس سرجی لاؤروف نے شہرہ آفاق قصرریاض میں پورے فوجی اعزازات کے ساتھ ان کا استقبال کیا۔ صدر پوٹن کے دورہ سعودی عرب کے بعد سعودی تیل کی تنصیبات ریاض میں شروع ہوگئے اور امریکہ نے روس کے حلیف ایران کو اس کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔ خام تیل صدر روس کے تبادلہ خیال کے موضوعات میں سرفہرست ہے۔ صدر روس پٹرول کی درآمدات کے سلسلہ میں بھی تبادلہ خیال کریں گے کیونکہ روس سے پٹرول کی برآمد کا معاہدہ جو دیگر ممالک کے ساتھ کیا گیا ہے۔ آئندہ موسم بہار میں ختم ہوجائے گا۔ روس تیل پیداوار کنندہ ممالک کی تنظیم اوپیک کا رکن نہیں ہے۔ تاہم اس کے ساتھ قریبی تعاون کے ذریعہ کام کرتا رہا ہے۔ اس کی سربراہی محدود ہونے کی وجہ سے پٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتیں متاثر نہیں ہوئی۔ 2014ء کے معاشی انحطاط کے بعد روس کی معیشت پر تباہ کن اثرات مرتب ہوئے تھے۔ امریکہ سعودی عرب کا قریبی حلیف ہے اور روس نے سعودی عرب سے حالیہ برسوں میں بڑے پیمانے پر ربط پیدا کیا ہے خاص طور پر ملک سلمان کا اولین دورہ روس اکٹوبر 2017ء میں ہوا تھا۔ ایک سال بعد جب سعودی ولیعہد شہزادہ جن کا تعارف عام طور پر ایم بی ایف کے نام سے کروایا جاتا ہے، تنقید کا نشانہ بن گئے جبکہ انہوں نے ناراض صحافی جمال خشوگی کے استنبول میں قتل کا حکم دیا تھا۔ صدر روس نے ان سے G-20 چوٹی کانفرنس میں مصافحہ سے بھی گریز کیا تھا۔ عربی زبان میں عربی ٹی وی چینلوں کو انٹرویو دیتے ہوئے پوٹن کے دورہ سے قبل انہوں نے روس کے ساتھ سعودی شاہی خاندان کے خوشگوار تعلقات کا ادعا کرتے ہوئے پوٹن کی تعریف کی تھی۔ تجزیہ نگاروں نے کہا تھا کہ روس ایران کے ساتھ قدیم تر تعلقات رکھتا ہے اور سعودی عرب کے ساتھ اس کے روابط بالکل نئے ہیں تاہم وہ اس علاقہ میں امن بحال کرنے میں کافی مددگار کردار ادا کرسکتا ہے جبکہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ گذشتہ ماہ بھی اس کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا جبکہ سعودی عرب کے خام تیل کے کارخانوں پر حملے ہوئے تھے اور مملکت کی تیل کی پیداوار متاثر ہوئی تھی جس کی وجہ سے خام تیل کے بازاروں میں تیل کی قیمت میں اضافہ ہوگیا تھا۔ علاوہ ازیں یمن کے حوثی باغیوں پر سعودی زیرقیادت اتحادی فوج کے حملوں کی وجہ سے بھی ایران کے ساتھ سعودی عرب کے تعلقات مزید کشیدہ ہوگئے۔ باغیوں کے پاس ان کارخانوں پر حملے کیلئے عصری ہتھیار نہیں ہیں۔ ایران نے اعلان کیا تھا کہ وہ ان حملوں کا مخالف ہے لیکن یمنی باغیوں کے ساتھ سعودی عرب کے خلاف جنگ کرنے میں وہ ملوث نہیں ہے۔ روس نے اس سلسلہ میں سعودی عرب سے وضاحت طلب کرنے فیصلہ کیا ہے۔
