پٹرول اور ڈیزل پر ویاٹ میں کمی کے ذریعہ عوام کو راحت کا مطالبہ

   

ٹراویل انڈسٹری میں 6 لاکھ افراد روزگار سے محروم، ترجمان پردیش کانگریس کا بیان
حیدرآباد۔/10 نومبر، ( سیاست نیوز) کانگریس پارٹی نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ سے عوام کو راحت دینے کیلئے کے سی آر حکومت سے ویاٹ میں کمی کا مطالبہ کیا ہے۔ پارٹی ترجمان سید نظام الدین نے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی جانب سے ویاٹ میں کمی سے انکار پر شدید ردعمل کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ مرکز کی جانب سے پانچ تا دس روپئے کی کمی کے اعلان کے بعد پنجاب اور دیگر ریاستوں نے ریاستی سطح کے ٹیکس ویاٹ میں کمی کا فیصلہ کیا ہے تاکہ عوام کے بوجھ کو کم کیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کا شمار ان ریاستوں میں ہے جہاں پٹرولیم اشیاء پر ویاٹ دیگر ریاستوں سے زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت پٹرول پر ایکسائیز ڈیوٹی کے طور پر 27.90 روپئے وصول کررہی ہے جبکہ ریاستی حکومت کو ویاٹ کے تحت فی لیٹر 28.17 روپئے کی آمدنی ہے۔ عوام کی جانب سے سنٹرل ایکسائیز ڈیوٹی کے طور پر 21.80 اور روپئے اور ریاست کے ویاٹ کے طور پر 20.12 روپئے ڈیزل پر وصول کئے جارہے ہیں۔ کانگریس ترجمان نے کہا کہ مرکزی حکومت اور تلنگانہ کی ٹی آر ایس حکومت ٹیکسوں کے بوجھ کے ذریعہ عوام کو لوٹ رہے ہیں۔ نظام الدین نے کہا کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے نوٹ بندی پر سب سے پہلے اپنی تائید کا اعلان کیا تھا۔ اس کے علاوہ جی ایس ٹی کے نفاذ اور مودی حکومت کے دیگر فیصلوں کی بھی کے سی آر نے تائید کی تھی۔ مودی حکومت کے ان فیصلوں سے ملک کی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ گئی ۔ انہوں نے کہا کہ جب مودی حکومت کے ہر فیصلہ کی کے سی آر تائید کررہے ہیں تو پھر پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں کمی کے فیصلہ کے بعد ویاٹ میں کمی کرنی چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ پٹرولیم اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ کا بہانہ بناکر آر ٹی سی کرایوں میں پہلے ہی اضافہ کردیا گیا ہے۔ نظام الدین جو تلنگانہ اسٹیٹ کیابس اینڈ بس آپریٹرس اسوسی ایشن کے صدر ہیں مزید کہا کہ ریاست میں ٹراویل انڈسٹری تباہی کے دہانے پر ہے۔ تقریباً 6 لاکھ افراد راست اور بالراست طور پر ٹراویل انڈسٹری میں روزگار سے محروم ہوچکے ہیں۔ر