عام آدمی پر اضافی بوجھ ، ٹی ایس آر ٹی سی بھی نقصانات کے اندیشہ سے فکر مند
حیدرآباد ۔ 9 ۔ جولائی : ( رتنا چوٹرانی ) : حالیہ مرکزی بجٹ میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ سے صارفین کی بڑی تعداد تکلیف محسوس کررہی ہے ۔ پٹرول کی قیمت میں 2.70 روپئے فی لیٹر اور ڈیزل کی قیمت میں 2.55 روپئے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے جو کہ عام آدمی پر بڑا بوجھ ہے ۔ پٹرول اینڈ ڈیزل اسوسی ایشن کے عہدیداروں کے مطابق تلنگانہ میں یومیہ 45 لاکھ لیٹر پٹرول اور 72 لاکھ لیٹر ڈیزل کا استعمال کیا جاتا ہے اس طرح ان اشیاء کے صارفین پر یومیہ تقریبات 3.50 کروڑ روپئے کا بوجھ ہوگا ۔ مرکزی وزیر فینانس نرملا سیتارامن نے ان کی بجٹ تقریر میں پٹرول اور ڈیزل پر خصوصی اضافی اکسائز ڈیوٹی اور روڈ اینڈ انفراسٹرکچر ٹیکس میں ایک روپئے تک اضافہ کی تجویز پیش کی ۔ مرکزی ٹیکسیس میں یہ اضافہ پٹرول اور ڈیزل پر 2 روپئے کا ہے لیکن اس کی ریٹیل قیمت میں ، جس میں ریاستی حکومت کے محاصل جیسے ویاٹ ، شامل ہے ، آئیل کمپنیوں کی فائنل قیمت سے زیادہ چارج کئے جاتے ہیں ۔ جس میں مرکزی لیویز شامل ہوتے ہیں ۔ اس سے ان اشیاء کی قیمت میں اضافہ ہوتا ہے ۔ حکومت تلنگانہ کو ڈیزل پر 55 پیسے اور پٹرول پر فی لیٹر 70 پیسے حاصل ہورہے ہیں اس طرح ریاستی حکومت کو یومیہ پٹرول پر تقریبا 31.50 لاکھ اور ڈیزل پر 50.40 لاکھ روپئے کا ریونیو حاصل ہورہا ہے جب کہ مرکز کو پٹرول پر 2 روپئے اور ڈیزل پر 2 روپئے اس طرح صرف تلنگانہ سے یومیہ پٹرول پر 90 لاکھ اور ڈیزل پر 1.44 کروڑ روپئے کا ریونیو حاصل ہورہا ہے ۔ جو کہ عام آدمی پر بوجھ ہے ۔ اس دوران تلنگانہ اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ نے بھی تکلیف محسوس کی ہے کیوں کہ فیول کی قیمتوں میں اضافہ سے اس کو مزید نقصانات کا اندیشہ ہے ۔۔
