پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں

   

نئی دہلی، 24 مارچ (یو این آئی) بین الاقوامی بازار میں خام تیل کی قیمتوں میں تیزی کے باوجود منگل کے روز پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بغیر کسی تبدیلی کے برقرار رہیں۔ ملک کی سب سے بڑی تیل مارکیٹنگ کمپنی انڈین آئل کارپوریشن کے مطابق قومی دارالحکومت میں آج پٹرول کی قیمت 94.77 روپے اور ڈیزل کی 87.67 روپے فی لیٹر پر مستحکم رہی۔ عام پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 30 اکتوبر 2024 کے بعد سے کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے ۔ انڈین آئل کے پریمیم پٹرول ایکس پی 95 کی قیمت 20 مارچ کو دو روپے بڑھائی گئی تھی۔ دہلی میں اس کی قیمت اب 101.89 روپے فی لیٹر ہو گئی ہے ۔ انڈین آئل کے پریمیم ڈیزل ایکس جی کی قیمت 91.49 روپے فی لیٹر پر مستحکم ہے۔
ممبئی میں پٹرول کی قیمت 103.54 روپے ، چنئی میں 100.84 روپے اور کولکاتا میں 105.45 روپے فی لیٹر ہے ۔ ڈیزل ممبئی میں 90.03 روپے ، چنئی میں 92.39 روپے اور کولکاتا میں 92.02 روپے فی لیٹر فروخت ہو رہا ہے ۔ بین الاقوامی بازار میں خام تیل کی قیمت فی الحال 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر چکی ہے ۔ اس کے علاوہ روپیہ بھی ان دنوں ڈالر کے مقابلے میں تاریخی نچلی سطح پر ہے ۔ اس سے تیل کمپنیوں پر قیمت بڑھانے کا دباؤ ہے ، تاہم فی الحال وہ صارفین پر زیادہ بوجھ ڈالنا نہیں چاہتیں۔

پٹرول اور ڈیزل مہنگا ہونے پر انوراگ ٹھاکر کی کانگریس پر تنقید
نئی دہلی، 24 مارچ (یواین آئی) بھارتیہ جنتا پارٹی نے منگل کے روز ہماچل پردیش کی کانگریس حکومت پر پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کو لے کر زوردار حملہ کیا ہے ۔ اسی سلسلے میں پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ انوراگ ٹھاکر نے کانگریس پر نشانہ سادھتے ہوئے کہا کہ کانگریس لیڈر راہول گاندھی اور پرینکا گاندھی کا ’’کھٹا کھٹ ماڈل‘‘ اب ’’کھٹارا ماڈل‘‘ بن گیا ہے ۔ اس سے قبل بی جے پی کے ترجمان شہزاد پونا والا نے بھی سوشل میڈیا ’ایکس‘ پر ویڈیو جاری کرتے ہوئے ہماچل پردیش کی کانگریس حکومت پر تنقید کی تھی۔ ٹھاکر نے الزام لگایا کہ ریاستی حکومت کی جانب سے پٹرول کی قیمت میں فی لیٹر پانچ روپے کے اضافے سے عام آدمی پر براہ راست اثر پڑے گا اور اس سے عوام کی جیب پر سالانہ 1000 کروڑ روپے سے زیادہ کا بوجھ بڑھے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پہلے ہی دو بار میں 10 روپے سے زیادہ ویٹ بڑھایا گیا تھا اور اب پانچ روپے کا سیس شامل کر کے کل 15 روپے کا اضافی بوجھ عوام پر ڈالا گیا ہے۔
مسٹر ٹھاکر نے اسے عوام دشمن فیصلہ قرار دیتے ہوئے کانگریس حکومت کی پالیسیوں کی سخت مذمت کی ہے ۔