بے تحاشہ ٹیکسوں سے عام آدمی پر بوجھ، ایک لیٹر پر 52.30 روپئے ٹیکس وصولی
نئی دہلی : آئیل کمپنیاں عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ کے باعث گذشتہ 9 دن سے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کو مستحکم کرنے کی کوشش کرتے ہوئے صارفین کو راحت فراہم کرسکتی ہیں لیکن ان پر ٹیکسوں کا بھاری بوجھ ڈالا جارہا ہے۔ حکومت پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کرتے ہوئے آمدنی حاصل کرنے کی لالچ میں آگئی ہے۔ دونوں پٹرولیم اشیاء کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ کردیا گیا ہے۔ ملک میں کوروناوائرس کی وباء سے متاثر مالیاتی سسٹم کے باعث حکومت ڈیوٹی میں کم کرنے سے گریز کررہی ہے۔ پٹرول کی ریٹیل قیمت پر اب 62.5 فیصد ٹیکسیس اور ڈیوٹی وصول کی جارہی ہے جبکہ ڈیزل کی ریٹیل قیمت پر 57.77 فیصد ٹیکس لیا جارہا ہے۔ عالمی سطح پر پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں گذشتہ 15 دن کے دوران کمی آنے کے باوجود ٹیکسوں میں کوئی کمی نہیں کی گئی اور نہ ہی اضافہ کیا گیا ہے ورنہ مہینے کے آغاز تک پٹرول کی ریٹیل قیمت پر ٹیکس 70 فیصد سے زائد وصول کیا جاتا۔ بے تحاشہ ٹیکسیس عائد کرنے کا مطلب عام صارفین کو پٹرول کی قیمت زائد ادا کرنی ہے۔ اگر حکومت نے اپنی آمدنی بڑھانے کیلئے پٹرول اور ڈیزل کو نشانہ نہیں بنایا تو وہ مالیہ سے محروم ہوجائے گی۔ اسی لئے حکومت نے ان دو اہم پٹرولیم اشیاء پر ٹیکسیس میں اضافہ کیا ہے۔ ہندوستان میں آج پٹرولیم اشیاء کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہے۔ موجودہ ریاستی ٹیکس ویاٹ کی شرح پٹرول اور ڈیزل پر علی الترتیب 19.32 اور 10.55 روپئے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا ہے۔ اسی طرح ماہ مئی میں مرکز نے فیصلہ کیا تھا کہ پٹرول پر 10 روپئے اور ڈیزل پر 13 روپئے کی اکسائز ڈیوٹی میں اضافہ کرے۔ اس سے ایک لیٹر پٹرول پر 32.30 روپئے کا مکمل ٹیکس لیا جارہا ہے اور ڈیزل پر 42.68 روپئے فی لیٹر ٹیکس حاصل کیا جارہا ہے۔ پٹرول کی اصل قیمت فی لیٹر 27.37 ہے اور ڈیزل کی قیمت 28.32 ہے۔ گذشتہ 15 دن کے دوران دونوں پٹرولیم اشیاء پر بے تحاشہ ٹیکس لگا کر مالیہ اکھٹا کیا گیا اور صارفین پر بوجھ ڈالا گ یا ہے۔