فی لیٹر قیمت 100 روپئے تک پہنچنے کا اندیشہ
حیدرآباد۔ کورونا لاک ڈاؤن کی صورتحال نے عوام کی معاشی حالت کو دگرگوں کردیا ہے ایسے میں حیدرآباد میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ عوام پر دگنا بوجھ بن چکا ہے۔ حیدرآباد میں پیر سے پٹرول کی قیمت میں اضافہ کردیا گیا ۔ فی لیٹر 96.22 روپئے وصول کئے جارہے ہیں۔ امکان ہے کہ یہ قیمت جلد 100 روپئے تک پہنچ جائے گی۔ پٹرولیم کمپنیوں کی جانب سے روزانہ قیمتوں کا تعین کیا جاتا ہے جو خام تیل کی بین الاقوامی قیمت کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ بھارت پٹرولیم کارپوریشن ، ہندوستان پٹرولیم کارپوریشن اور انڈین آئیل کارپوریشن عالمی منڈی میں خام تیل کی طئے شدہ قیمتوںکے اعتبار سے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کا تعین کرتے ہیں۔ ایسے وقت جبکہ کورونا کی صورتحال نے ملک بھر میں معیشت کو تباہ کردیا ہے پٹرول و ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ عوام پر اضافی بوجھ کے علاوہ مسائل میں اضافہ کا سبب بن رہاہے۔ پٹرول اور ڈیزل کے ڈیلرس اس بارے میں کچھ بھی کہنے سے گریز کررہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کمپنیوں کی طئے شدہ قیمتوں پر وہ فروخت کرنے کے پابند ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ آئیل کمپنیوں کی جانب سے ڈیلرس کو فی لیٹر 4 روپئے دیئے جارہے ہیں جبکہ پٹرول کی قیمت میں وقفہ وقفہ سے اضافہ کیا گیا۔ یکم مارچ کو فی لیٹر پٹرول کی قیمت 94.79 روپئے تھی جبکہ یکم اپریل کو 94.16 اور یکم مئی کو 93.99 روپئے فی لیٹر تھی۔