15 فیصد قیمت میں کمی کی جائے، جی ایس ٹی کی مخالفت ، ایوان سے واک آؤٹ
حیدرآباد۔ 5 جنوری (سیاست نیوز) مجلس کے فلور لیڈر اکبر الدین اویسی نے جی ایس ٹی کی مخالفت کرتے ہوئے اس کو ریاست کی معیشت کے لئے نقصان دہ قرار دیا۔ پٹرول میں 15 فیصد ایتھنال کی ملاوٹ پر اعتراض کرتے ہوئے پٹرول کی قیمت میں 15 فیصد کمی کرنے کا مطالبہ کیا اور بطور احتجاج اسمبلی سے واک آؤٹ کیا۔ آج اسمبلی میں جی ایس ٹی ترمیمی بل کے مباحث میں حصہ لیتے ہوئے اکبر الدین اویسی نے کہا کہ مجلس پارٹی ابتداء سے جی ایس ٹی کی مخالفت کررہی ہے اور اس ترمیمی بل پر اپنے موقف کو دہرا رہی ہے۔ جی ایس ٹی سے ملک کی معیشت کو نقصان پہنچا ہے۔ ’’ون نیشن اور ون ٹیکس‘‘ سے چھوٹی اور ترقیافتہ ریاست اپنی آمدنی سے محروم ہو رہی ہے۔ ریاست تلنگانہ جی ایس ٹی کی وجہ سے قرض میں غرق ہوگیا ہے۔ اکبر الدین اویسی نے کہا کہ ریاست سے بھاری مقدار میں ٹیکس مرکز کو پہنچ رہا ہے بدلے میں معمولی فنڈس تلنگانہ کو حاصل ہو رہے ہیں۔ تلنگانہ کی آبادی کم ہے باوجود ہم جی ایس ٹی کی شکل میں مرکز کو زیادہ فنڈس دے رہے ہیں۔ اترپردیش کی آبادی زیادہ ہے مگر مرکز کو جی ایس ٹی کم دے رہا ہے۔ ستم ظریفی یہ ہیکہ زیادہ ٹیکس دینے والی ریاست تلنگانہ کو معمولی فنڈس جاری کررہی ہے جبکہ کم جی ایس ٹی دینے والی اترپردیش کو زیادہ فنڈس جاری کرتے ہوئے تلنگانہ سے ناانصافی کی جارہی ہے جب سے جی ایس ٹی نافذ ہوئی تب سے تلنگانہ کو 80 ہزار کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے۔ حکومت اس کی وضاحت کریں۔ جی ایس ٹی شیطان بن کر تلنگانہ کی معیشت کو کھا جارہا ہے۔ اکبر الدین اویسی نے کہا کہ پٹرول میں 15 فیصد ایتھنال کی ملاوٹ کی جارہی ہے اور اس کا کنٹراکٹ مرکزی وزیر کے فرزند کو دیاگیا ہے۔ پٹرول میں جب ایتھنال ملایا جارہا ہے تومرکزی حکومت پٹرول کی قیمت میں 15 فیصد کمی کردیں۔ مرکزی حکومت پٹرول میں ملاوٹ کررہی ہے، عوام کو دھوکہ دے رہی ہے۔ وہ ریاستی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں جی ایس ٹی کو ختم کرنے کی اسمبلی میں قرارداد منظور کریں۔ اکبر الدین اویسی نے یاد دلایا کہ ڈاکٹر منموہن سنگھ حکومت میں روپے کی قدر گھٹ جانے پر اس وقت موجودہ وزیر اعظم نریندرمودی نے منموہن سنگھ کی عمر سے زیادہ روپے کی قدر گھٹ جانے کا طنزیہ ریمارکس کیا تھا۔ آج روپے کی قدر بھی مودی کی عمر سے بہت زیادہ گھٹ گئی ہے۔ بی جے پی کے احتجاج کے دوران مجلس نے بطور احتجاج واک آؤٹ کیا۔ 2
