پٹرول و ڈیزل پر ویاٹ میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی : کے سی آر

   

٭ مرکزی حکومت و بی جے پی کے خلاف مسلسل جدوجہد کا اعلان
٭ زرعی قوانین سے دستبرداری کا مطالبہ ‘دہلی میں دھرنا منظم کرنے کا اعلان
٭ مودی حکومت سے 10 روپئے کا فائدہ نہیں ہوا: پریس کانفرنس سے خطاب

…… رشید الدین ……
حیدرآباد۔/7 نومبر،۔ چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ نے حضورآباد کے ضمنی چناؤ کے نتیجہ کے ساتھ ہی مرکزی حکومت اور بی جے پی کے خلاف اعلان جنگ کردیا۔ انہوں نے پٹرول اور ڈیزل پر مرکز کے تمام ٹیکس واپس لینے اور زرعی قوانین سے دستبرداری کیلئے جدوجہد کا اعلان کیا اور کہا کہ ضرورت پڑنے پر وہ وزراء اور عوامی نمائندوں کے ساتھ نئی دہلی میں دھرنا منظم کریں گے۔ پرگتی بھون میں پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران چیف منسٹر مرکزی حکومت اور تلنگانہ کے بی جے پی قائدین پر کافی برہم دکھائی دیئے اور انہوں نے بی جے پی قائدین کو نالائق اور کمینے جیسے الفاظ سے مخاطب کیا۔ چیف منسٹر نے کہا کہ ریاست کے مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائیگا اور میں جب تک زندہ رہوں عوام کیلئے جدوجہد جاری رکھوں گا۔ انہوں نے پٹرول اور ڈیزل پر ویاٹ میں کمی سے انکار کردیا اور کہا کہ تلنگانہ حکومت نے گزشتہ سات برسوں میں پٹرول اور ڈیزل پر ویاٹ میں ایک پیسہ بھی اضافہ نہیں کیا ہے لہذا کمی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ مرکز نے ٹیکسوں میں اضافہ کیا ہے لہذا اسے ٹیکسوں سے مکمل دستبرداری اختیار کرنی چاہیئے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ عالمی سطح پر خام تیل کی قیمت میں کوئی اضافہ نہیں ہوا اس کے باوجود مرکز نے پٹرول اور ڈیزل پر ٹیکس میں مسلسل اضافہ کیا ہے۔ اگر مرکزی حکومت عوام کی بھلائی میں سنجیدہ ہے تو اسے تمام ٹیکسس واپس لینے چاہیئے جس سے پٹرول کی قیمت فی لیٹر 75 روپئے ہوسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دلت بندھو اسکیم پر عمل آوری کے سلسلہ میں شبہ کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیئے نہ صرف حضورآباد بلکہ سارے تلنگانہ میں دلت بندھو اسکیم پر من و عن عمل کیا جائے گا۔ چیف منسٹر نے مرکز سے زرعی قوانین سے دستبرداری اور دھان کی خریدی سے متعلق پالیسی کے اعلان کا مطالبہ کیا۔ چیف منسٹر نے کہا کہ بی جے پی قائدین عوام کو گمراہ کرنے غیر ذمہ دارانہ بیان بازی کررہے ہیں۔ اب یہاں سے میں خاموش نہیں رہوں گا۔ تلنگانہ کے ہر گاؤں میں بی جے پی قائدین کا تعاقب کیا جائے گا۔ انہوں نے مرکز پر تلنگانہ کے ساتھ ناانصافی کا الزام عائد کیا اور کہا کہ تلنگانہ کو 10 روپئے کا بھی فائدہ نہیں ہوا ہے۔ انہوں نے مرکز سے سوال کیا کہ وہ دوہرے معیار کے ساتھ تماشہ کررہا ہے۔ گزشتہ سات برسوں میں مرکز نے عوام کی بھلائی کا ایک بھی کام انجام نہیں دیا۔ جب کبھی ووٹ حاصل کرنا ہوتا ہے تو عوام کے درمیان مذہبی منافرت اور سرحدوں پر کشیدگی پیدا کرتے ہوئے ووٹ حاصل کئے جاتے ہیں۔ بی جے پی حکومت نے سات برسوں میں ملک کو تباہ کردیا ہے۔ ہندوستان کی جی ڈی پی بنگلہ دیش، نیپال اور پاکستان سے بھی کم ہوچکی ہے۔ عوامی شعبہ کے اداروں کو خانگیانے کی مخالفت کرتے ہوئے کے سی آر نے کہا کہ ایل آئی سی جیسے ادارہ کو فروخت کرنا شرمناک ہے۔انہوں نے کہا کہ آندھرا پردیش تنظیم جدید قانون میں تلنگانہ سے جو وعدے کئے گئے تھے ان میں سے ایک وعدہ بھی پورا نہیں ہوا۔ کے سی آر نے کہا کہ میں نے وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کے دوران واضح کردیا تھا کہ ہم نے ہر اہم مسئلہ میں مرکز کی تائید کی ۔ صدر اور نائب صدر جمہوریہ کے الیکشن کے علاوہ پارلیمنٹ میں اہم بلز کی منظوری میں ہم نے تعاون کیا لیکن اب ریاست سے ناانصافی پر خاموش نہیں رہیں گے۔ عوام میں مرکزی حکومت کو بے نقاب کیا جائیگا۔ چیف منسٹر نے کہا کہ دلت بندھو، کلیان لکشمی اور آسرا پنشن جیسی اسکیمات پر بی جے پی زیر اقتدار ریاستوں میں عمل کرکے عوام سے ہمدردی کا بی جے پی ثبوت دے۔ انہوں نے کہا کہ زرعی قوانین اور پٹرول و ڈیزل پر ٹیکسوں سے دستبرداری کیلئے جدوجہد کا آغاز کیا جائے گا اور ہم خیال جماعتوں کو اس جدوجہد میں شامل کیا جائے گا۔ چیف منسٹر نے کہا کہ ضرورت پڑنے پر نئی دہلی میں ان کی قیادت میں ارکان پارلیمنٹ، ارکان اسمبلی، ارکان کونسل، ضلع پریشد کے صدورنشین اور مجالس مقامی کے عوامی نمائندوں کے ساتھ دھرنا منظم کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ مرکز تلنگانہ سے دھان خریدنے کیلئے تیار نہیں ہے جبکہ پنجاب سے دھان کی خریدی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ دھان کے مسئلہ پر مرکز کی پالیسی میں یکسانیت کیوں نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ دھان کی خریدی کے مسئلہ پر مرکز کے فیصلہ کا ایک ہفتہ تک انتظار کریں گے۔ چیف منسٹر نے واضح کردیا کہ تلنگانہ میں پٹرول و ڈیزل پر ویاٹ میں کمی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ ہم نے ایک پیسہ بھی اضافہ نہیں کیا ہے اور جنہوںنے اضافہ کیا انہیں واپس لینا چاہیئے۔ر