پٹرول کے 100 روپئے کلب میں حیدرآباد شامل

,

   

نئی دہلی: مرکز کی بی جے پی زیرقیادت مودی حکومت کے ساتھ ساتھ لگ بھگ تمام ریاستوں کی عوام کے تعلق سے بے حسی ایندھن جیسی زندگی کی اہم ترین ضرورت کو لوگوں کی رسائی سے مسلسل دور کرتی جارہی ہے ۔ گزشتہ 20-25 سال میں ہندوستانیوں نے کبھی سوچا تھا نہ ہوگا کہ پٹرول ملک میں 100 روپئے فی لیٹر فروخت ہوگا لیکن مودی حکومت اور ملک بھر کی کئی بی جے پی اور غیر بی جے پی حکومتوں نے پٹرول کو 100 روپئے فی لیٹر تک پہونچادیا ہے بلکہ ڈیزل بھی ملک کے بعض حصوں میں 100 روپئے فی لیٹر سے تجاوز کرچکا ہے ۔ پٹرول کے 100 روپئے کلب میں تازہ اضافہ تلنگانہ کا دارالحکومت حیدرآباد بنا ہے جہاں پیر 14 جون کو پٹرول کی معیاری قیمت 100.20 فی لیٹر رہی ۔ حیدرآباد میں ڈیزل 95.14 روپئے فی لیٹر فروخت ہورہا ہے ۔ مرکزی حکومت اپنے ٹیکس میں کوئی کمی کرنا نہیں چاہتی اور یہی حال ریاستی حکومتوں کا ہے ۔ اگر کوئی ریاستی حکومت عوام پر بوجھ کو گھٹانا چاہے تو پٹرول پر اسٹیٹ ٹیکس میں کٹوتی کرسکتی ہے لیکن کوئی بھی ریاستی حکومت ایسا نہیں کررہی ہے ۔ قبل ازیں آئیل مارکیٹنگ کمپنیوں نے پیر کو ایک بار پھر پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کیا ہے ۔ اس سے قبل اتوار کے روز قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی تھی۔آج کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ دونوں ایندھن مہنگائی کی نئی بلندیوں کو پہنچ چکے ہیں۔ ملک کے چار بڑے میٹرو میں پٹرول 29 پیسے اور ڈیزل 31پیسے مہنگا ہوگیا۔انڈین آئیل کارپوریشن کے مطابق دہلی میں پٹرول 29پیسے کے اضافے سے96.41 روپئے اور ڈیزل 30 پیسے اضافے سے 87.28روپئے فی لیٹر مہنگا ہوگیا۔قیمتوں میں اضافے کا حالیہ سلسلہ 4 مئی کو شروع ہوا۔ دہلی میں مئی کے مہینے کے دوران پٹرول 3.83روپئے جبکہ ڈیزل 4.42روپئے مہنگا ہوگیا۔ جون میں اب تک پٹرول کی قیمت میں 2.18روپئے اور ڈیزل کی قیمت میں 2.13روپئے کا اضافہ ہوچکا ہے ۔ممبئی میں پٹرول کی قیمت میں 28 پیسے اور ڈیزل کی قیمت میں 31 پیسے کا اضافہ ہوا ہے ۔ وہاں ایک لیٹر پٹرول 102.58روپئے اور ڈیزل 94.70روپئے ہوگیا۔ چینائیمیں پٹرول 26 پیسے کے اضافے سے 97.69روپئے اور ڈیزل 28 پیسے کے اضافے سے 91.92روپئے فی لیٹر مہنگا ہوگیا۔کولکاتا میں پٹرول کی قیمت میں 28 پیسے اور ڈیزل کی قیمت میں 29 پیسے کا اضافہ ہوا ہے ۔ وہاں پٹرول اب 96.34روپئے اور ڈیزل 90.12روپئے فی لیٹر پر پہنچ گیا ہے ۔خیال رہے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کا روزانہ جائزہ لیا جاتا ہے اور اسی بنا پر روزانہ صبح 6 بجے سے نئی قیمتوں پر عمل درآمد ہوتا ہے ۔