راج بھون تک ریالی، پولیس لاٹھی چارج، حکومت کیساتھ آج بات چیت ، ایجنڈہ پر موقف سخت
پٹنہ : مرکز کے 3 زرعی قوانین کے خلاف کسانوں کے احتجاج میں شدت پیدا ہوگئی ہے۔ سینکڑوں کسان آج پٹنہ پہونچ گئے اور راج بھون تک بڑی ریالی نکالنے سے قبل گاندھی میدان کے قریب جمع ہوگئے۔ یہ کسان گاندھی میدان میں داخل ہونا چارہے تھے۔ پولیس نے انھیں طاقت کے ذریعہ روک دیا۔ سڑکوں پر احتجاجی کسانوں کے سروں کا سمندر دکھائی دے رہا ہے۔ احتجاجی کسانوں کے ساتھ کل 30 ڈسمبر کو حکومت کی بات چیت کیلئے کسان اپنے ایجنڈہ پر سختی سے قائم ہیں۔ ضلع نظم و نسق نے کسانوں کو گاندھی میدان میں داخل ہونے سے روکنے کے لئے بڑی بڑی رکاوٹیں کھڑی کردی تھیں۔ کسان گزشتہ چند دن سے پہلے ہی یہاں کیمپ کئے ہوئے ہیں۔ اِن کسانوں کے درمیان مزید کسان شامل ہوگئے۔ پولیس نے کسانوں کے احتجاج پر قابو پانے کے لئے زائد دستے تعینات کئے تاکہ کسانوں کو اِس تاریخی میدان سے مارچ نکالنے نہ دیا جائے۔ تاہم کسانوں کی ایک بڑی تعداد پہلے سے ہی یہاں موجود تھی اور اِن میں مزید کسان شامل ہونے کے بعد پولیس کو کنٹرول کرنا مشکل ہورہا تھا۔ گاندھی میدان اور ڈاک بنگلہ چوک کے درمیان جگہ جگہ رکاوٹیں کھڑی کردی گئیں۔ پولیس نے اِس علاقہ سے کسانوں کو منتقل کرنے کی کوشش میں فرزر روڈ پر کسانوں پر لاٹھی چارج بھی کیا۔ پٹنہ کے کئی مقامات پر کسانوں اور پولیس کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں۔ اس کے علاوہ شہر کے مشہور مقام ڈاک بنگلہ چوک بھی جنگ کا منظر پیش کررہا تھا۔ پٹنہ نظم و نسق نے گاندھی بھون سے راج بھون جانے والی ہر سڑک پر پولاس کی بھاری جمعیت کو تعینات کیا ہے۔ کسان مہا سبھا کے تحت احتجاج کرنے والے کسان سڑکوں پر نکل کر سپٹمبر میں نریندر مودی حکومت کی جانب سے پارلیمنٹ میں منظور کردہ متنازعہ 3 زرعی قوانین کے خلاف احتجاج کررہے ہیں۔ بہار میں بائیں بازو پارٹیوں کی تائید سے یہ پہلا شدید احتجاج ہے۔