پڑوسی ریاست سے عوام کی شہر واپسی کے دوران ٹریفک مسائل حل کرنے پر توجہ

   

آندھرا پردیش سے آنے والی ٹریفک کا رخ موڑدیا جائے گا ۔ متبادل راستوں کی فراہمی
حیدرآباد۔17جنوری (سیاست نیوز) تعطیلات کے آغاز کے پر پڑوسی آندھرا پردیش روانگی کے دوران شاہراہوں پر ٹریفک جام کے مسائل کا جائزہ لینے کے بعد عہدیداروں بالخصوص نیشنل ہائی وے اتھاریٹی آف انڈیا کے حکام نے اب آندھراسے حیدرآباد واپس ہونے والی ٹریفک کو بہتر بنانے رخ موڑنے کے اقدامات کو قطعیت دیتے ہوئے شاہراہوں پر ٹریفک جام کے مسائل کو حل کرنے اور راہروؤں کو مسائل کا شکار ہونے سے بچانے اقدامات کا فیصلہ کیا ہے۔ بتایا گیا کہ دونوں ریاستوں کو جوڑنے والی شاہراہوں پر ٹریفک جام کے مسائل بالخصوص تہواروں اور تعطیلات کے دوران گذرگاہوں پر مشکل صورتحال کو بہتر بنانے اقدامات کئے جانے لگے ہیںاور قومی شاہراہ نمبر 65 پر جاری توسیعی کاموں میں بھی کوئی خلل پیدا نہ ہواس کیلئے ہائی وے اتھاریٹی آف انڈیا نے رخ موڑنے اقدامات کئے ہیں۔ بتایا جاتاہے کہ گنٹور سے حیدرآباد پہنچنے والی ٹریفک کا رخ موڑنے کے علاوہ پڑوسی ریاست کے مختلف شہروں سے حیدرآباد پہنچنے والی ٹریفک کیلئے متبادل راستوں کی فراہمی یقینی بنائی جارہی ہے ۔ تلسنکرانت کی تعطیلات کے ساتھ ہی بڑی تعداد میں آندھرائی عوام جو کہ شہرحیدرآبادمیں مقیم ہیں اپنے آبائی مقامات روانہ ہوئے اور ان کی واپسی کا سلسلہ اتوار کی شب سے ہونے کا امکان ہے اور ان کی واپسی کے دوران بھی دونوں ریاستوں کو جوڑنے والی شاہراہوں پر ٹریفک کی شکایات کا خدشہ ہے کیونکہ جس رفتار سے تعطیلات کے آغاز کے ساتھ ہی بڑی تعداد میں لوگ آبائی مقام روانہ ہوئے ہیں اسی رفتار سے تعطیلات کے اختتام پر ملازمتوں کیلئے شہر پہنچنے کوشش کریں گے اور سابق میں لمحہ ٔ آخری میں واپسی کی کوشش میں کئی ملازمین کو طویل تعطیلات کے بعد پہلے دن ہی ملازمت سے رجوع کرنے میں دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا تھا لیکن اس بار دونوں ریاستوں کے حکام اور نیشنل ہائی وے اتھاریٹی کی جانب سے شاہراہوں پر ٹریفک جام کے مسئلہ کو دور کرنے ٹریفک کا رخ تبدیل کرکے متبادل راستوں کو کھولنے کا فیصلہ کیاگیا ہے۔بتایا گیا کہ آندھراپردیش سے حیدرآباد پہنچنے والے راستوں اور سرحدی اضلاع پر نیشنل ہائی وے اتھاریٹی کی جانب سے خصوصی انتظامات کے ذریعہ شاہراہوں کی ٹریفک کو بحال رکھنے کی منصوبہ بندی کرلی گئی اور متبادل راستوں کی نشاندہی کرتے ہوئے ٹریفک کو منقسم کرنے کے اقدامات کئے جار ہے ہیں۔3