گریٹر حیدرآباد کے حدود میں ماہانہ 6 کروڑ روپئے وصول ، شکایت بے اثر
حیدرآباد :۔ گریٹر حیدرآباد میں ایل پی جی پکوان گیاس سربراہ کرنے والے ڈیلیوری بوائز ہر ماہ صارفین سے 6 کروڑ روپئے زیادہ وصول کررہے ہیں ۔ پکوان گیاس سیلنڈر کے ساتھ ہر گھر سے 20 تا 30 روپئے زیادہ وصول کررہے ہیں ۔ گریٹر حیدرآباد میں پکوان گیاس استعمال کرنے والے صارفین پر دن بہ دن مالی بوجھ بڑھتا جارہا ہے ۔ آئیل کمپنیوں کی جانب سے ایک طرف من مانی قیمتوں میں اضافہ کیا جارہا ہے تو دوسری طرف ڈیلیوری بوائز ڈیمانڈ کر کے سرویس چارجس کے طور پر 20 تا 30 روپئے وصول کررہے ہیں ۔ ایل پی جی گیاس بک کرنے کے بعد آن لائن میں مقررہ بل کا پتہ چل جاتا ہے ۔ پھر بھی ڈیلیوری بوائز صارفین کے جیبوں پر ڈاکہ ڈال رہے ہیں ۔ اہم آئیل کمپنیوں کی جانب سے صارفین کو مشورہ دیا جارہا ہے کہ وہ ڈیلیوری بوائز کو مقررہ قیمت سے ایک روپیہ زیادہ ادا نہ کریں ۔ لیکن اس پر کوئی عمل آوری نہیں ہورہی ہے ۔ فی الحال گھر کو پکوان گیاس ڈیلیوری کرنے پر صارف کو صرف 746.50 روپئے ادا کرنا ہے ۔ مگر ڈیلیوری بوائز سرویس چارجس کے نام پر 770 روپئے وصول کررہے ہیں کبھی کبھی اور بھی 10 روپئے زیادہ وصول کیا جارہا ہے جب کہ حقیقت یہ ہے کہ جب بل تیار ہوتا ہے اس میں ڈیلیوری بوائز کی سرویس چارج بھی وصول کرلیئے جاتے ہیں ۔ پھر بھی عوام سے زائد پیسے وصول کئے جارہے ہیں ۔ اس کی شکایت ڈسٹری بیوٹرس سے کرنے پر بھی ڈیلیوری بوائز کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جارہی ہے ۔ گیاس ایجنسیوں کی جانب سے ڈیلیوری بوائز کو مناسب تنخواہیں ادا نہیں کی جارہی ہے یا انہیں صرف کمیشن ادا کیا جارہا ہے ۔ جس کی وجہ سے ڈیلیوری بوائز عوام سے پیسہ وصول کررہے ہیں جب کہ قواعد پر نظریں ڈالیں تو پتہ چلتا ہے کہ صارف کی جانب سے آن لائن میں گیاس بک کرانے پر بل جرنیٹ کر کے ڈور ڈیلیوری کی جائے ۔ ایجنسی سے گھر اندرون 5 کیلو میٹر ہو تو مفت ڈور ڈیلیوری کی جائے اگر 6 تا 15 کلومیٹر دور ہو تو ٹرانسپورٹ چارج کے نام پر 10 روپئے وصول کئے جاسکتے ہیں ۔ 16 تا 30 کیلو میٹر دوری پر 15 روپئے ٹرانسپورٹ چارجس وصول کئے جاسکتے ہیں ۔ اگر صارف خود سیلنڈر ریلیف گیس کمپنی کے گودام پہونچتا ہے ۔ بل میں 8 روپئے کمی کرنی چاہئے ۔۔