سرکاری پالیسیاں خانگی کمپنیوں کے لیے سوغات کا سبب
پکوان گیس سبسیڈی ختم ہونے کے دہانے پر
مارکٹ میں خانگی کمپنیوں کا اثر شروع
حیدرآباد ۔ 14 ۔ ستمبر : ( سیاست نیوز ) : پکوان گیس سیلنڈرس بھی اب شہریوں کو خانگی کمپنیوں کے استعمال کرنے پڑیں گے؟ چونکہ پکوان گیس سیلنڈر کی سپلائی اور مہنگائی کا طرز عمل مارکٹ میں خانگی کمپنیوں کے لیے راہموار کررہا ہے ۔ ان تازہ حالات کے بعد اب مرکزی حکومت پکوان گیس کے معاملہ میں بھی خانگیانے کی پالیسیوں کے اقدامات کے دائرے میں آگئی ہے ۔ ایک منظم پالیسی کے تحت پکوان گیس سیلنڈرس کی سربراہی اور اس کی سبسیڈی کو آہستہ آہستہ ختم کرنے کی مبینہ سازش جاری ہے ۔ دن بہ دن اضافی قیمتوں سے پریشان حال شہریوں کے لیے پکوان گیس کی قیمتوں کا اضافہ پہلے ہی پریشانی میں اضافہ کا سبب بنا ہوا ہے ۔ قیمتوں میں اضافہ تو دن بہ دن ہورہا ہے لیکن سرکاری سبسیڈی میں کسی قسم کا کوئی اضافہ نہیں ہوتا ۔ سبسیڈی کو کم کرنے کے اشارے اور اقدامات مارکٹ میں خانگی کمپنیوں کی آمد کے لیے راہموار کرنے کے مترادف ثابت ہورہے ہیں ۔ سرکاری اقدامات اور پالیسیوں کو دیکھتے ہوئے خانگی گیس کمپنیاں ریلائنس گو گیاس ، یوبر گیاس نے مارکٹ میں اپنے قدم جمانا شروع کردیا ہے ۔ یہ مذکورہ خانگی کمپنیاں ابھی تک صرف کمرشیل گیاس کی سپلائی پر اپنا دار و مدار رکھتی تھیں ۔ لیکن اب سرکاری پالیسیاں انہیں گھریلو گیس کے میدان میں قدم جمانے کا بہترین موقع فراہم کررہی ہیں ۔ پکوان گیس سیلنڈر پر مرکز کی جانب سے دی جانے والی سبسیڈی ان کمپنیوں کو راہ میں اہم روکاٹ تھیں ۔ اب سبسیڈی کی محدود اور دن بہ دن کم کرنے کے اقدام سے ان کمپنیوں نے اس دیوار کو نظر انداز کرنا شروع کردیا ہے ۔ حکومت کی جانب سے دی جانے والی سبسیڈی فی سیلنڈر 40 تا 50 روپئے پائی جاتی ہے ۔ جو موجودہ مہنگائی کے اس دور میں کوئی اہمیت نہیں رکھتی ۔ حالانکہ صارفین کو سہولت فراہم کرنے کے لیے حکومت کو قیمتوں میں اضافہ کے بعد سبسیڈی کی قیمت میں بھی اضافہ کرنا چاہئے تھا لیکن حکومت کی پالیسیاں اور اقدامات کچھ اور ہی ہیں ۔ دہلی میں 14.2 کیلو ایل پی جی سیلنڈر کی قیمت 884 روپئے ہے ۔ سابق حکومت کی جانب سے ایل پی جی سیلنڈر کی قیمت 500 روپئے تک محدود رکھا تھا ۔ تاہم مرکز کی مودی حکومت نے ڈیزل اور پٹرول کی سبسیڈی کو برخاست کرنے کی طرز پر ایل پی جی کی سبسیڈی کو بھی دن بہ دن کم کرتے جارہی ہے حالانکہ ایک کنکشن پر سالانہ 12 سیلنڈر اور سبسیڈی صرف 40 روپئے تک ہے جس کو برخاست کرنا اب مشکل نہیں ہوگا ؟ ۔۔A
اوپن مارکٹ
سرکاری پالیسی خانگی کمپنیوں کے لیے ایک سوغات کے مانند ثابت ہورہی ہے ۔ جہاں تک ریلائنس انڈسٹریز کا سوال ہے اس ادارے نے پکوان گیس مارکٹ میں اپنا اثر دکھانا شروع کردیا ہے ۔ جو دیگر اداروں کو بے اثر کردے گا ۔ اس کمپنی کی جانب سے مہاراشٹرا ، گجرات ، مدھیہ پردیش اور راجستھان میں پکوان گیس کے کنکشن کی فروخت کا آغاز کردیا ہے ۔ ریلائنس انڈسٹریز کا گجرات کے جام نگر میں بڑا پلانٹ پایا جاتا ہے جس کے سبب پڑوسی ریاستوں میں سپلائی آسان ہوگئی ہے جب کہ احمد آباد میں ریلائنس گیاس ڈومسٹک گیاس سیلنڈر 15 کیلو کی قیمت 12 سو روپئے ہے ۔ یعنی فی کیلو 80 روپئے اس طرح اے جینر لاجسٹک کی یوبر گیاس کے ایک سیلنڈر کی قیمت 1300 روپئے یعنی 87 روپئے فی کیلو ، گو گیاس ( کانفڈینٹ پٹرولیم ) 15 کیلو کا سیلنڈر 1200 روپئے میں فروخت کیا جارہا ہے جب کہ او ایم سی جو کہ سرکاری ادارہ ہے کی جانب سے فی سیلنڈر 800 روپئے میں فروخت کیا جارہا ہے ۔ مارکٹ میں خانگی کمپنیوں کی سرویس سرکاری کمپنیوں کی سرویس سے بہتر پائی جاتی ہے ۔ درخواست کی فوری یکسوئی اور اندرون 48 گھنٹے کنکشن کے اقدامات سے عوام کو راغب کیا جارہا ہے کہ جب کہ سرکاری طور پر قیمتوں میں اضافہ کے باوجود سہولیات میں کوئی بہتری نہیں پائی جاتی جو سرکاری اداروں کو مبینہ طور پر کمزور کرنے کی سازش تصور کی جاتی ہے جس کے نتائج برآمد ہورہے ہیں ۔۔A