پکوان گیس کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ

   

Ferty9 Clinic

کم آمدنی والے خاندان لکڑی کے چولہے کا استعمال کررہے ہیں ، سروے میں انکشاف
حیدرآباد ۔ 22 ۔ اگست : ( سیاست نیوز ) : پکوان گیس کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ ہوجانے کے بعد پکوان گیس کے استعمال میں کمی آرہی ہے ۔ ملک میں غریب اور کم آمدنی والے خاندان اب کھانا پکانے کے لیے لکڑی کے چولہے کا استعمال کررہے ہیں ایک سروے میں انکشاف ہوا ہے اس کی چار وجوہات ہیں یونائٹیڈ اسٹیٹس ایجنسی فار انٹرنیشنل ایجنسی ( یو ایس ایڈ ) کے تعاون و اشتراک سے کونسل ان انرجی ، انورمنٹ اینڈ وائر جیسی رضاکارانہ اداروں کے ساتھ مل کر ( سی اے بی ایچ ) نے کیے گئے سروے کی تفصیلات بیان کی ہے ۔ جس میں بتایا گیا ہے کہ پکوان گیس کی قیمتوں میں زبردست اضافہ ہوگیا جو غریب اور کم آمدنی خاندان پر یہ زائد مالی بوجھ ثابت ہورہا ہے جس کی وجہ سے لکڑی کے چولہے کو استعمال کرنے پر زیادہ توجہ دے رہے ہیں ۔ ساتھ ہی پکوان گیس حاصل کرنے کے لیے درخواست دینے کا عمل کافی پیچیدہ ہے ۔ پکوان گیس ختم ہوجانے کے بعد وقت پر پکوان گیس کی ڈور ڈیلوری نہ ہونے سے بھی عوام عاجز آچکے ہیں ۔ پکوان گیس صارفین کے مسائل کو حل کرنے کا کوئی باقاعدہ نظام نہیں ہے جس کی وجہ سے غریب اور کم آمدنی والے خاندان پکوان گیس کے بجائے لکڑی کے چولہے کو زیادہ تر استعمال کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں ۔ وزیراعظم نریندر مودی نے سال 2016 میں پردھان منتری اجول یوجنا اسکیم کا آغاز کیا جس کی وجہ سے دیہی علاقوں تک پکوان گیس کی رسائی ہوگئی ۔ غریب اور کم آمدنی والے خاندان بھی پکوان گیس استعمال کرنے لگے تھے ۔ 31 مارچ 2023 تک 9.50 کروڑ گیس کنکشنس منظور ہوئے تھے ۔ سروے میں ایسے بہت سے لوگ سامنے آئے ہیں کنکشن حاصل کرنے کے بعد بھی سیلنڈر خالی ہونے کے بعد دوبارہ پکوان گیس بک کرانے کے بہت کم واقعات دیکھنے کو ملے ہیں ۔ زیادہ تر لوگ پکوان گیس مسلسل بک نہیں کرارہے ہیں ۔ پکوان گیس کی قیمتوں میں بتدریج اضافہ ہورہا ہے اور عوام کی آمدنی گھٹ رہی ہے جس کی وجہ سے 41 فیصد خاندان کھانا پکانے کے لیے لکڑی کے چولہوں کو ترجیح دے رہے ہیں تاہم ملک کے مختلف ریاستوں میں اس کا الگ الگ تناسب ہے ۔ جھاڑکھنڈ میں 67.8 فیصد خاندان لکڑی کے چولہے استعمال کررہے ہیں دہلی میں اس کا تناسب 0.8 فیصد ہے ۔ سروے میں مشورہ دیا گیا ہے کہ 5 کلو پکوان گیس سیلنڈرس کی تقسیم کی جائے ۔ ساتھ ہی دھواں سے ہونے والے نقصانات کے بارے میں عوام میں شعور بیدار کرنے پر زور دیا گیا ہے ۔۔ ن