پکوان گیس کی قیمتوں میں 9 ماہ کے دوران 265 روپیوں کا اضافہ

   

Ferty9 Clinic

تلنگانہ کے عوام پر 150 کروڑ روپئے کا اضافی مالی بوجھ
حیدرآباد ۔ 21 اگست (سیاست نیوز) گھریلو پکوان گیس کی قیمتوں میں گذشتہ 9 ماہ کے دوران 265 روپئے کا اضافہ ہوا ہے جو تلنگانہ عوام پر 150 کروڑ روپئے کا اضافی بوجھ ہے۔ کورونا بحران کے باعث معاشی مسائل سے دوچار غریب و متوسط طبقہ پر مرکزی حکومت مزید مالی بوجھ عائد کررہی ہے۔ گذشتہ 9 ماہ کے دوران پکوان گیس کی قیمتوں میں اضافہ کرتے ہوئے 265.50 روپئے کا ضافہ کردیا ہے۔ جاریہ سال جنوری تا اگست تک چار ماہ کے دوران پانچ مرتبہ پکوان گیس کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے۔ ریاست تلنگانہ میں 1.10 کروڑ پکوان گیس کے کنکشن ہیں۔ تین گیاس ایجنسیاں ماہانہ 65 تا 70 لاکھ پکوان گیس سلنڈرس عوام میں تقسیم کرتی ہیں۔ پکوان گیس کی قیمتوں میں اضافہ سے تلنگانہ کے عوام پر 150 کروڑ روپئے کا اضافی مالی بوجھ عائد ہورہا ہے۔ ماہ اپریل میں ہی پکوان گیس پر صرف 10 روپئے کی کمی ہوئی تاہم 9 ماہ کے دوران فی پکوان گیس سلنڈر پر 265.50 روپئے کا اضافہ ہوا ہے۔ مرکزی حکومت کی جانب سے پکوان گیس پر صرف 40.71 روپئے کی سبسیڈی فراہم کی جارہی ہے۔
یہی نہیں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے میں مرکزی حکومت پوری طرح ناکام ہوگئی ہے۔ جاریہ سال پٹرول پر فی لیٹر 18.77 روپئے اور ڈیزل پر فی لیٹر 16.23 روپئے کا اضافہ ہوا ہے۔ ریاست میں ہر دن 50 لاکھ لیٹر پٹرول اور 1.10 کروڑ لیٹر ڈیزل فروخت ہوتا ہے۔