پکوان گیس کی قیمت میں اضافہ کے خلاف کانگریس قائدین کا دھرنا

   

Ferty9 Clinic

خالی سلینڈرس کے ساتھ احتجاج، اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ کی مذمت
حیدرآباد: پکوان گیس کی قیمت میں مسلسل چوتھی مرتبہ اضافہ کے خلاف کانگریس پارٹی نے آج بشیر باغ پر احتجاجی دھرنا منظم کیا ۔ ملک میں بڑھتی مہنگائی پر قابو پانے میں مودی حکومت کی ناکامی کے خلاف نعرے لگاتے ہوئے کانگریس قائدین نے خالی گیس سلینڈرس کے ساتھ مظاہرہ کیا۔ جنرل سکریٹری پردیش کانگریس عظمیٰ شاکر کی قیادت میں جنرل سکریٹری بی جڈسن ، ترجمان پردیش کانگریس اندرا شوبھن ، سکریٹری محمد زبیر ، لکشمن وجئے ، سلطان مرزا اور دیگر قائدین نے خالی گیس سلینڈرس کے ساتھ مارچ کیا اور چوراہے پر دھرنا منظم کیا ۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں نریندر مودی حکومت عوام پر مسلسل بوجھ عائد کر رہی ہے ۔ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ جب سے بی جے پی حکومت مرکز میں برسر اقتدار آئی ہے ، عام آدمی کے مسائل میں اضافہ ہوا۔ 2020 ء میں چار مرتبہ پکوان گیس کی قیمت میں اضافہ کیا گیا۔ 50 روپئے کا تازہ ترین اضافہ غریب اور متوسط طبقات کے لئے بوجھ ہے۔ غریب خاندان ایک ماہ کے اخراجات کی منصوبہ بندی کرتے ہیں ، ایسے میں سلینڈر پر 50 فیصد کے اضافہ سے دیگر اخراجات متاثر ہوں گے ۔ عظمیٰ شاکر نے کہا کہ ملک میں پیاز ، دال ، ٹماٹر کے علاوہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا۔ مودی حکومت نے عوام سے مہنگائی پر قابو پانے کا وعدہ کیا تھا لیکن کارپوریٹ اداروں کو فائدہ پہنچانے کیلئے قیمتوں میں اضافہ کیا جارہا ہے۔ کانگریس دورحکومت میں گیس سلینڈر کی قیمت 350 روپئے تھی لیکن سشما سواراج اور سمرتی ایرانی نے دھرنا دیا تھا۔ اب جبکہ گیس سلینڈر کی قیمت 560 روپئے ہوچکی ہے، سمرتی ایرانی گوشہ نشین ہوچکی ہے۔ انہیں غریبوں کی مشکلات کا کوئی احساس نہیں ہے ۔ نریندر مودی نے ہر گھر کو گیس سلینڈر سربراہ کرنے کا اعلان کیا لیکن گیس کی قیمت غریب کہاں سے لائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ پیاز اور ٹماٹر کو بھی غریبوں کی دسترس سے باہر کیا جارہاہے۔ کانگریس قائدین نے بی جے پی ہٹاؤ ، ملک بچاؤ کا نعرہ لگایا اورکہا کہ ملک کے عوام مودی حکومت کو سبق سکھائیں گے۔ کانگریس قائدین نے کہا کہ 15 دنوں میں گیس کی قیمت میں 100 روپئے کا اضافہ کیا گیا ہے۔ مودی کی تائید کرنے والی ٹی آر ایس کو عوام کے حق میں احتجاج کرنا چاہئے ۔