پہلگام دہشت گرد حملہ کی شدید مذمت: عامر علی خان

   

مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کو اخلاقی ذمہ داری قبول کرکے استعفیٰ دینا چاہئے

حیدرآباد۔ 23اپریل(سیاست نیوز) پہلگام میں ہوئے دہشت گرد حملہ سے انٹلیجنس اور حکومت کی ناکامی ثابت ہوتی ہے۔ حکومت ہند اور وزارت داخلہ کو اس کی اخلاقی ذمہ داری قبول کرنی چاہئے ۔ مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کو پہلگام کشمیر میں ہوئے حملہ کی اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے مستعفی ہوجانا چاہئے ۔ رکن قانون ساز کونسل تلنگانہ جناب عامر علی خان نے پہلگام حملہ پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے حملے عالمی سطح پر ہندستان کی شبیہ کو متاثر کرنے کا سبب بنتے ہیں اور ان کو روکنا مرکز کی ذمہ داری ہے ۔ جناب عامر علی خان نے کہا کہ پلوامہ حملہ میں ملک کے فوجی جوانوں کی شہادت اور اب پہلگام میں شہریوں کی اموات کی جامع تحقیقات ہونی چاہئے ۔ انہوں نے یاددہانی کروائی کہ پلوامہ حملہ کے دوران 300 کیلو آر ڈی ایکس لائے جانے کا انکشاف ہوا تھا لیکن آج تک مرکزی حکومت اور ایجنسیاں اس بات کا انکشاف کرنے سے قاصر ہیں کہ یہ آرڈی ایکس کہاں سے آیا تھا!رکن کونسل نے کہا کہ کشمیر کے دہشت گرد حملہ سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ مرکزی وزارت داخلہ اور دفاع دونوں ہی ناکام ہوچکے ہیں۔ جموں و کشمیر کو مکمل ریاست کا درجہ دینے سے گریز کرتے ہوئے مرکزی حکومت نے کشمیر کے لاء اینڈ آرڈر کو اپنے پاس رکھا ہوا ہے اسی لئے مرکز کو اس حملہ کی ذمہ داری قبول کرنی چاہئے ۔ جناب عامر علی خان نے حملہ کے متاثرین کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ہونے والے نقصان کی کوئی پابجائی نہیں کرسکتا لیکن اگر حکومت خاطیوں کو کیفر کردار تک پہنچاتی ہے تو ان خاندانوں کو انصاف ملنے کی توقع کی جاسکتی ہے۔ اگر اس حملہ میں پڑوسی ملک کے دہشت گردوں کے ملوث ہونے کا دعویٰ کیا جاتا ہے تو ایسی صورت میں بھی مرکزی وزارت دفاع پر اس کی ذمہ داری عائد ہوگی کیونکہ ملک کی سرحدوں کی حفاظت کی ذمہ داری وزارت دفاع کی ہوتی ہے۔3