طلبہ کو امتحانات کے بغیر آگے کی کلاسیس میں پرموٹ کیا جائے گا
حیدرآباد۔ تلنگانہ میں کورونا کیسس میں اضافہ اور بالخصوص اسکولی طلبہ کے متاثر ہونے کے واقعات کو دیکھتے ہوئے حکومت پہلی تا آٹھویں جماعت اسکولس کو دوبارہ بند کرنے پر غور کررہی ہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤنے چیف سکریٹری سومیش کمار اور محکمہ تعلیم کے اعلیٰ عہدیداروں کے ساتھ جائزہ اجلاس منعقد کیا جس میں بعض اہم فیصلے کئے گئے۔ تعلیمی اداروں میں کورونا کیسس میں اضافہ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے چیف منسٹر نے عہدیداروں کو اسکولوں کو جاری رکھنے کے بارے میں تجاویز پیش کرنے کی ہدایت دی۔ ریاست میں 6 ویں جماعت سے اسکولوں میں کلاسیس کا آغاز ہوچکا ہے۔ کورونا کے کیسوں میں اضافہ سے حکومت پہلی تا آٹھویں کلاسیس کو بند کرنے کا سنجیدگی سے جائزہ لے رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق پہلی تا آٹھویں جماعت کے طلبہ کو امتحانات کے بغیر آئندہ کلاسیس میں پرموٹ کرنے پربھی غور کیا جارہا ہے۔ چیف منسٹر عنقریب اس کا فیصلہ کریں گے۔ اسی دوران چیف منسٹر نے ریاستی اسمبلی کو بتایا کہ آئندہ دو دنوں میں حکومت تعلیمی شعبہ کے بارے میں اعلان کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ دیگر ممالک میں کورونا کی دوسری لہر کمزور پڑ چکی ہے لیکن ہندوستان میں دوسری لہر کاابھی آغاز ہوا ہے۔ پڑوسی ریاستوں میںکیسوں میں اضافہ درج کیا گیا ہے۔ دیگر ریاستوں کے مقابل تلنگانہ کی صورتحال کافی بہتر ہے لیکن ہم طلبہ کی صحت کے معاملہ میں کوئی سمجھوتہ نہیں کرسکتے۔ حکومت صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔