پہلی مرتبہ، امریکہ کی اسرائیل کو اعلانیہ وارننگ

   

واشنگٹن: امریکی وزیر خارجہ کے معاون برائے امور مشرقِ قریب ڈیوڈ شینکر کا کہنا ہے کہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کو اسرائیلی ٹکنالوجی کی صنعت میں چین کی سرمایہ کاری پر تشویش ہے اس لیے کہ یہ اسرائیلی اور امریکی قومی سلامتی کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔شینکر نے یہ بات پیر کے روزSIGNAL ریسرچ سینٹر کی جانب سے منعقد کی گئی ایک کانفرس میں کہی۔ یہ مرکز اسرائیل اور چین کے درمیان اکیڈمک تعاون پر توجہ مرکوز رکھتا ہے۔اس سے قبل اسرائیل میں روز بروز ترقی کرتے ہوئے ٹکنالوجی سیکٹر میں چین کی شرکت کے حوالے سے ٹرمپ انتظامیہ ڈھکے چھپے انداز میں اپنے اندیشوں کا اظہار کر چکی ہے۔ ممکنہ طور پر یہ پہلا موقع ہے کہ امریکی انتظامیہ اعلانیہ طور پر اس موقف کا اظہار کر رہی ہے۔ٹرمپ انتظامیہ چینی نفوذ سے نمٹنے کے لیے عالمی مہم میں سرگرم ہو چکی ہے۔ اسی سلسلے میں امریکہ نے اسرائیل پر دباؤ ڈالا ہے کہ وہ چین کے ساتھ اپنے تعلقات کو ہلکا رکھے اور اسرائیلی معیشت میں چینی سرمایہ کاری کو محدود کرے۔