سپریم کورٹ … راہول گاندھی کی حب الوطنی پر سوال
عدلیہ پر زعفرانی رنگ … بی جے پی ترجمان ہائی کورٹ کی جج
نفرت کی مہم … اسکولی بچوں کو زہر کس نے دیا؟
رشیدالدین
نریندر مودی ملک کو آخر کس راہ پر لیجانا چاہتے ہیں۔ ملک کے تمام اداروںکو زعفرانی رنگ میں رنگنے کی سازش عدلیہ تک پہنچ چکی ہے۔ ہندو راشٹر میں تبدیلی کے ایجنڈہ کے تحت گزشتہ 11 برسوں میں مقننہ، عاملہ اور میڈیا پر مکمل کنٹرول حاصل کرلیا گیا ۔ تحقیقاتی ایجنسیاں سی بی آئی ، ای ڈی اور انکم ٹیکس کو حکومت کے کٹھ پتلی اداروں میں تبدیل کردیا گیا۔ دستوری اداروں میں الیکشن کمیشن بھی مودی کا ترجمان بن چکا ہے ۔ جمہوریت کا آخری ستون عدلیہ اپنی غیر جانبداری اور آزادی کی برقراری کیلئے جدوجہد کر رہا ہے۔ گزشتہ 10 برسوں میں عدلیہ پر اثر انداز ہوتے ہوئے اپنی پسند کے فیصلے حاصل کئے گئے، باوجود اس کے عدلیہ کا ایک گوشہ جو آزادی اور غیر جانبداری پر یقین رکھتا ہے، وہ ابھی بھی مزاحمت کر رہا ہے ۔ یہ مزاحمت کمزور ہے جو سارے سسٹم پر اثر انداز نہیں ہوسکتی۔ اب تک صورتحال یہ تھی کہ ریٹائرمنٹ کے بعد ججس کو اہم عہدوں کا لالچ دیتے ہوئے حکومت کے حق میں فیصلے حاصل کئے جاتے رہے۔ کون نہیں چاہتا کہ سبکدوشی کے باوجود سیاسی بازآبادکاری سے فائدہ اٹھایا جائے۔ مودی حکومت نے عدلیہ میں مداخلت کے تمام حدود کو پار کرتے ہوئے مہاراشٹرا بی جے پی ترجمان آرتی ارون ساٹھے کو بمبئی ہائی کورٹ کا جج مقرر کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ سپریم کورٹ کالجیم نے بمبئی ہائی کورٹ کے لئے جن ناموں کی سفارش کی ہے ، ان میں آرتی ارون ساٹھے کا نام دوسرے نمبر پر ہے ۔ ظاہر ہے کہ حکومت کی تجویز پر ہی کالجیم نے یہ سفارش کی ہوگی۔ کسی بھی جج کے تقرر کے سلسلہ میں امیدواروں کے ٹریک ریکارڈ کو دیکھا جاتا ہے ۔ حال ہی میں آندھراپردیش کے ایک مسلم ایڈوکیٹ کے نام کو محض اس بنیاد پر کالجیم نے مسترد کردیا تھا کہ ان کے خلاف دھوکہ دہی کا معاملہ درج تھا، حالانکہ وہ بری ہوگئے تھے ۔ تلنگانہ کے ایک مسلم ایڈوکیٹ کو عمر کی کمی کا بہانہ بناکر جج بننے سے روک دیا گیا کیونکہ عمر کے اعتبار سے وہ سپریم کورٹ تک بھی جاسکتے تھے۔ سپریم کورٹ کالجیم جب اس قدر باریک بینی سے جائیزہ لیتا ہے تو بی جے پی ترجمان کے نام کو کس بنیاد پر منظوری دی گئی۔ قانونی ماہرین کے مطابق کسی بھی ایڈوکیٹ کے بطور جج تقرر کی سفارش سے قبل اس کی غیر جانبداری ، دیانتداری اور غیر سیاسی ہونے کا جائزہ لیا جاتا ہے ۔ گودی میڈیا کو چھوڑ کر جب دوسرے میڈیا نے بی جے پی ترجمان کی حقیقت آشکار کردی ہے تو کیا سپریم کورٹ کالجیم اپنے فیصلہ کو واپس لے گا ؟ عدلیہ میں بی جے پی اور سنگھ پریوار کے نمائندوں کی باقاعدہ شمولیت کے بغیر بھی اکثر فیصلے حکومت کے حق میں آرہے ہیں۔ بی جے پی ترجمان کی تقرری کے بعد فیصلوں کا کیا انداز اور رخ ہوگا ، اس کا اندازہ بخوبی کیا جاسکتا ہے۔ عدلیہ کا ابھی سے یہ حال ہے کہ لوک سبھا لوک سبھا کے قائد اپوزیشن راہول گاندھی کے ہندوستانی ہونے اور ان کی حب الوطنی پر سوال کئے جارہے ہیں ۔ چین کی جانب سے ہندوستانی علاقہ پر قبضہ کے بارے میں راہول گاندھی کے بیان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ۔ مقدمہ کے خلاف راہول گاندھی ملک کی اعلیٰ ترین عدالت یعنی سپریم کورٹ سے رجوع ہوئے۔ جسٹس دیپانکر دتہ نے پہلے تو چین کے قبضہ کے بارے میں ثبوت مانگا اور ریما رک کیا کہ ایک سچے ہندوستانی کا یہ بیان نہیں ہوسکتا۔ جسٹس دتہ نے لگے ہاتھوں راہول گاندھی کو صلاح دے ڈالی کہ وہ سوشیل میڈیا کے بجائے لوک سبھا میں بات کریں۔ عدلیہ کے مکمل احترام کے ساتھ ہم کہنا یہ چاہتے ہیں کہ کسی کے سچے ہندوستانی ہونے کا فیصلہ کرنا عدلیہ کا کام نہیں ہے ۔ عدلیہ کے پاس حب الوطنی طئے کرنے کا آخر کیا پیمانہ ہے؟ جس طرح نریندر مودی سوالات سے گھبراتے ہیں، اسی طرح فاضل جج بھی راہول گاندھی کو سوالات سے روکنا چاہتے ہیں۔ قائد اپوزیشن کا کام ہی حکومت سے سوال کرنا ہوتا ہے۔ فاضل جج شائد پارلیمنٹ کی کارروائی کا مشاہدہ نہیں کرتے جہاں حکومت اہم مسائل پر مباحث سے فرار کا راستہ اختیار کر رہی ہے ۔ ملک کے تمام سرکردہ قائدین نے ہندوستانی علاقہ پر چین کے قبضہ کے بارے میں بیانات دیئے ہیں۔ وزارت خارجہ نے بھی چین کے قبضہ کا اعتراف کیا ہے ۔ قانونی ماہرین کے مطابق لیڈر آف اپوزیشن کو کیا ، کب اور کہاں کہنا چاہئے اس کا فیصلہ عدالت نہیں کرسکتی۔ آرتی ارون ساٹھے کے جج بن جانے کے بعد ان کے فیصلوں میں غیر جانبداری کی توقع کیسے کی جاسکتی ہے ۔ بابری مسجد اراضی کو رام مندر کی تعمیر کیلئے حوالے کرنے سے متعلق سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ کے فیصلہ میں شامل ججس کو حکومت نے عہدوں سے نوازا ۔ چیف جسٹس رنجن گوگوئی ریٹائرمنٹ کے 4 ماہ میں راجیہ سبھا کے رکن بن گئے۔ جسٹس عبدالنذیر کو آندھراپردیش کا گورنر اور اشوک بھوشن کو نیشنل کمپنی لاء اپیلیٹ ٹریبونل کا صدرنشین مقرر کیا گیا جبکہ چندر چوڑ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے عہدہ پر فائز ہوئے ۔ جسٹس چندر چوڑ کی قیامگاہ پر وزیراعظم نریندر مودی نے گنیش پوجا میں شرکت کی تھی اور یہی ڈی وائی چندر چوڑ ہیں جنہوں نے کہا تھا لارڈ رام نے انہیں رام مندر کے حق میں فیصلہ کی رہنمائی کی تھی۔ کولکتہ ہائی کورٹ کے جسٹس ابھیجیت گنگولی کو لوک سبھا چناؤ میں بی جے پی نے مغربی بنگال کی محفوظ نشست سے ٹکٹ دیا اور وہ منتخب ہوگئے ۔ انہوں نے مہم کے دوران ممتا بنرجی کے خلاف نازیبا ریمارکس کئے تھے۔ مرکز میں بی جے پی اقتدار کے بعد ججس کی کرسی پر رہتے ہوئے مودی کی کھلے عام ستائش کرنے والے ججس کی طویل فہرست ہیں جن میں شیکھر یادو (الہ آباد ہائی کورٹ) ، ایم آر شاہ (پٹنہ ہائی کورٹ) ، ارون مشرا سپریم کورٹ ، انی کرشنن (کیرالا ہائی کورٹ) شامل ہیں۔ جسٹس شیکھر یادو نے عوامی تقریب میں مسلمانوں کو کٹھ ملا ، تشدد بھڑکانے والے اور ملک کی ترقی میں رکاوٹ پیدا کرنے والے قرار دیا تھا۔ ملک کے عوام جنوری 2018 کو بھولے نہیں ہیں جب سپریم کورٹ کے 4 ججس نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھا کہ جمہوریت خطرہ میں ہے۔ ملک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ججس نے پریس کانفرنس کی تھی ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ 2018 میں جمہوریت کو خطرہ بتانے والوں میں رنجن گوگوئی بھی شامل تھے جو بعد میں چیف جسٹس اور راجیہ سبھا تک کا سفر طئے کیا۔ شائد راجیہ سبھا کی رکنیت کے بعد جمہوریت کو خطرہ ٹل گیا۔
ملک میں گزشتہ 11 برسوں کے دوران نفرت کا زہر کچھ اس طرح پھیلا دیا گیا ہے کہ فرقہ پرست عناصر بے لگام ہوچکے ہیں۔ ملک کے کسی نہ کسی حصہ میں روزانہ مسلمانوں سے نفرت کا کوئی نہ کوئی معاملہ منظر عام پر آرہا ہے۔ کرناٹک کے بیلگام میں سری رام سینا نے مسلمانوں سے نفرت کے مظاہرہ کی تمام حدود کو پار کرتے ہوئے ایک سرکاری اسکول کے پانی میں زہر ملادیا۔ بی جے پی کی تائیدی تنظیم سری رام سینا کو دراصل یہ بات پسند نہیں تھی کہ سرکاری اسکول کے پرنسپل مسلمان ہیں۔ سلیمان گورے نائک گزشتہ 13 برسوں سے گورنمنٹ اسکول کے پرنسپل کے عہدہ پر فائز ہیں اور اسکول میں تمام مذاہب کے طلبہ زیر تعلیم ہیں۔ مسلم پرنسپل کے تبادلے یا پھر ان کی معطلی کی سازش کے تحت اسکول کی ٹینک میں زہر ملا دیا گیا جس کے نتیجہ میں 7 تا 8 سال کی عمر کے کئی بچے متاثر ہوئے جنہیں ہاسپٹل سے رجوع کیا گیا۔ پولیس نے سری رام سینا کے جن کارکنوں کو گرفتار کیا، انہوں نے پانی کی ٹینک میں زہر ملانے کیلئے ایک اسکولی بچے کو لالچ دے کر استعمال کیا تھا۔ ساتھیوں کی طبیعت بگڑتے ہی بچے نے ٹیچرس کو زہر ملانے کی سازش سے واقف کرایا جس کے نتیجہ میں دیگر بچوں کی جان بچ گئی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس قدر بھیانک اور سنگین واقعہ کو گودی میڈیا نے یکسر نظر انداز کردیا ۔ اگر سری رام سینا کی جگہ کوئی مسلمان ہوتے تو 24 گھنٹے گودی میڈیا کے چاٹوکار اینکرس گلا پھاڑ پھاڑ کر مسلمانوں کے خلاف زہر افشانی کرتے ۔ گودی میڈیا کے چیانلس پر خصوصی مباحث کا اہتمام کیا جاتا۔ چونکہ گرفتار شدہ افراد زعفرانی تنظیم کے ہیں ، لہذا اس واقعہ کو دبانے کی کوشش کی گئی۔ گزشتہ دنوں ایک خانگی ایرلائینس کمپنی کے ملازمین کی سری نگر ایرپورٹ پر ایک آرمی آفیسر نے بری طرح پٹائی کردی کیونکہ اسٹاف نے مقررہ حد سے زیادہ وزن لے جانے سے روکنے کی کوشش کی تھی۔ جیسے ہی پتہ چلا کہ حملہ آور غیر مسلم اور متاثرہ شخص مسلمان ہے تو گودی میڈیا نے اس واقعہ کا بھی بلیک آؤٹ کردیا۔ مسلمانوں سے نفرت کا جذبہ اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ نفرتی عناصر اپنے بچوں کی قربانی دینے کے لئے بھی تیار ہیں لیکن انہیں گورنمنٹ اسکول میں مسلمان پرنسپل پسند نہیں۔ نریندر مودی حکومت نے زعفرانی عناصر کے ذریعہ مسلمانوں میں خوف کا احساس پیدا کرنے کی کوشش کی تاکہ انہیں دوسرے درجہ کے شہری بنایا جائے۔ پونے میں کارگل جنگ کے ایک بہادر سپاہی کے گھر پر پولیس اور ہجوم نے آدھی رات کو پہنچ کر ہندوستانی شہریت کے دستاویزات طلب کئے ، حالانکہ اس خاندان کی تین پیڑیوں نے ہندوستانی فوج میں بہادری دکھائی ہے ۔ 1962 ، 1965 اور 1971 کی جنگوں کے علاوہ 1999 کی کارگل جنگ میں اس خاندان کے فوجیوں نے حصہ لیا تھا۔ نفرت کی اس مہم پر کہیں نہ کہیں فل اسٹاپ لگنا چاہئے۔ ماجد دیوبندی نے کیا خوب کہا ہے ؎
پہلے یہ طئے کرو کہ وفادار کون ہے
پھر وقت خود بتائے گا غدار کون ہے