محکمہ زراعت متحرک ہونے پر مصنوعی قلت برخواست، عوام کو کسی قدر راحت
حیدرآباد۔15ڈسمبر(سیاست نیوز) پیاز کی قیمتو ںمیں تیزی سے گراوٹ ریکارڈ کی جانے لگی ہے اور اب شہرحیدرآباد میں پیاز کی قیمتیں 40تا50 روپئے فی کیلو کے قریب پہنچ چکی ہیں۔گذشتہ چندیوم سے پیاز کی کالابازاری کے سلسلہ میں کئے جانے والے انکشافات کے دوران محکمہ زراعت اور مارکٹنگ کی جانب سے حرکت میں آنے کے سبب اب ہول سیل بازاروں میں پیاز پہنچنے لگی ہے اور جو لوگ پیاز کی کالابازاری کررہے تھے وہ منظر سے غائب ہونے لگے ہیں بلکہ بعض مقامات پر سستے داموں میں پیاز کی فروخت کی تشہیر کے ذریعہ خود کو غریبوں کا مسیحا قرار دینے کی کوشش بھی کرنے لگے ہیں۔ دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد کے کئی مقامات پر جہاں پیاز معمول کے مطابق نہیں پہنچ رہی تھی بلکہ حکومت کی جانب سے رعایتی قیمت پر فروخت کی جانے والی پیاز کی گاڑیاں بھی غائب کردی جا رہی تھی ان کے اچانک بازاروں میں پہنچنا شروع ہونے کے نتیجہ میں پیاز کی قیمتوں میں 50فیصد سے بھی زیادہ گراوٹ ریکارڈ کی جانے لگی ہے اور کہا جار ہاہے کہ آئندہ چند یوم کے دوران پیاز کی قیمت میں مزید گراوٹ ریکارڈ کی جائے گی بشرطیکہ محکمہ زراعت اور مارکٹنگ کی جانب سے کالابازاری پر قدغن لگانے کے اقدامات کے ذریعہ پیاز کو ہول سیل بازار تک پہنچنے دیا جائے۔ پیاز کی کالا بازاری کرنے والوں کی جانب سے پیاز کی مصنوعی قلت پیدا کرتے ہوئے صاف اور اچھی پیاز کو بازار سے غائب کرتے ہوئے ذخیرہ کیا جانے لگا تھا اور پیاز کی قیمتوں پر جوا کھیلا جارہا تھاجس کے سبب پیاز کی قیمت میں زبردست اچھال ریکارڈ کیا گیا اور پیاز کی قیمتیں 200 روپئے تک پہنچ چکی تھیں ۔ شہر حیدرآباد و سکندرآباد میں مہاراشٹر سے پہنچنے والی پیاز نہ پہنچنے کا بہانہ کیا جا رہا تھا جبکہ کئی ہول سیل تاجرین نے کہا کہ پیاز معمول کے مطابق پہنچ رہی ہے لیکن بازار میں نہیں لائی جا رہی ہے بلکہ دیگر مقامات کو منتقل کی جانے لگی تھی لیکن گذشتہ چند یوم سے پیاز کی کالا بازار کے سلسلہ میں انکشافات کے بعد محکمہ جاتی عہدیدار بھی متحرک ہوچکے ہیں اور کالابازاری کرنے والوں کی جانب سے بھی احتیاط کیا جانے لگا ہے کیونکہ ان کی جانب سے اس بھیانک جرم کے ارتکاب کا طریقہ کار عوام تک پہنچ چکا تھا اور پیاز ایک جگہ ذخیرہ کرتے ہوئے اس کی ایک سے زائد مرتبہ بغیر منتقلی فروخت کے ذریعہ قیمت میں اضافہ کیا جارہا تھا اور جب درکا قیمت وصول ہوتی تو اسے بازار لایاجانے لگا تھا جس کے سبب پیاز کی قیمت پر کنٹرول نہیں ہوپا رہا تھا ۔