نئی دہلی: مرکز نے دفتر برائے رجسٹرار جنرل آف انڈیا کو ملک میں پیدائش اور اموات کے اندراج کی تصدیق کے لئے آدھار کی اجازت دے دی ہے۔ تاہم اس طرح کے رجسٹریشن کیلئے آدھار لازمی نہیں ہے۔ 27 جون 2023 کو شائع ہونے والے ایک گزٹ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزارت نے آر جی آئی آفس کو پیدائش اور اموات کے اندراج کے دوران فراہم کردہ شناختی تفصیلات کی تصدیق کے لیے آدھار ڈیٹا بیس کو استعمال کرنے کی اجازت دی ہے۔اس کے مطابق رجسٹریشن آف برتھ اینڈ ڈیتھ ایکٹ، 1969 کے تحت مقرر کردہ رجسٹرار کو رضاکارانہ بنیادوں پر آدھار نمبر کی ہاں یا نا میں تصدیق کرنے کی اجازت دی جائے گی، تاکہ پیدائش کے اندراج کی صورت میں بچے، والدین اور اطلاع دینے والے کی شناخت قائم رہ سکے۔
اسی طرح موت کے اندراج کی صورت میں والدین، شریک حیات اور اطلاع دہندہ کی شناخت قائم رکھی جاسکے گی۔
ریاستی حکومتیں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی انتظامیہ آدھار کی تصدیق کے استعمال کے سلسلے میں ان رہنما خطوط پر عمل کریں گے جو الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزارت کے ذریعہ وضع کیا گیا ہے۔ وزارت نے سال 2020 میں قوانین کو وضع کیا تھا جس کے مطابق مرکزی حکومت گڈ گورننس، عوامی فنڈز کے رساؤ کو روکنے اور زندگی میں آسانی کو فروغ دینے کے لیے اداروں سے درخواست کر کے آدھار کی تصدیق کی اجازت دے سکتی ہے۔اصولوں کے مطابق، وزارت یا ریاستی حکومتیں جو آدھار کی توثیق کو استعمال کرنے کی خواہشمند ہیں، اس طرح کی تصدیق کو درست ثابت کرنے کے لیے ایک تجویز تیار کریں گی اور اسے مرکزی حکومت کو یونیک آئیڈینٹی فکیشن اتھارٹی آف انڈیا (یو آئی ڈی اے آئی) کا حوالہ دینے کے لیے پیش کریں گی۔