فسادات کا خاتمہ کے سی آر کا رکانامہ ، ایوارڈ تقریب سے وزیر داخلہ محمود علی کا خطاب
حیدرآباد ۔ 22 ۔ دسمبر : ( سیاست نیوز ) : تلنگانہ کی پولیس ملک کی نمبر ون پولیس ہے ۔ پیشہ وارانہ لحاظ سے لا اینڈ آرڈر کی برقراری کے لحاظ سے اور انتظامی امور میں مہارت کے لحاظ سے ہماری ریاست کی پولیس سارے ملک میں سرفہرست مقام رکھتی ہے ۔ ان خیالات کا اظہارریاستی وزیر داخلہ محمد محمود علی نے سابق ایس پی نواب واجد علی خاں کی یاد میں منعقدہ 20 ویں ایوارڈ تقریب سے خطاب میں کیا ۔ اس تقریب کا اہتمام کے ڈبلیو فاونڈیشن اینڈ ٹرسٹ ( قیصر بیگم واجد علی خاں ) کی جانب سے کیا گیا ۔ واضح رہے کہ اس ٹرسٹ کو نواب واجد علی خاں مرحوم کے بیٹے ، بیٹیوں نے قائم کیا ہے جس کے تحت ہر سال محکمہ پولیس اور دیگر شعبوں میں خدمات انجام دینے والوں کی حوصلہ افزائی کے لیے انہیں ایوارڈس سے نوازا جاتا ہے ۔ جناب محمود علی نے اپنا سلسلہ خطاب جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ریاست تلنگانہ کے لیے جب علحدہ تحریک چلائی جارہی تھی اور کے چندر شیکھر راؤ ملک بھر کا دورہ کرتے ہوئے چیف منسٹرس اور قومی قائدین سے ملاقات کررہے تھے تب ان سے تین سوال کئے جاتے تھے پہلا سوال یہ ہوتا تھا کہ ریاست تلنگانہ کے دارالحکومت حیدرآباد میں فرقہ وارانہ فسادات ہوا کرتے ہیں اسے کیسے روکو گے ؟ تلنگانہ میں بجلی کی قلت ہے اس پر کیسے قابو پاؤ گے اور تلنگانہ میں کسانوں کی حالت بہت خراب ہے اور ایک بڑی تعداد میں کسان خود کشی کرتے ہیں ۔ اس مسئلہ کا حل کیا نکالوگے ؟ بہر حال کے سی آر نے نہ صرف پرامن جدوجہد کے ذریعہ علحدہ ریاست تلنگانہ حاصل کیا بلکہ فرقہ وارانہ فسادات کا خاتمہ کردیا ۔ ریاست میں بجلی کی پیداوار اس قدر بڑھ گئی ہے کہ عوام کو اب برقی مسدودی کی کوئی شکایت نہیں رہی جب کہ ملک میں سب سے زیادہ کسان اگر کہیں خوش ہیں تو وہ ریاست تلنگانہ ہے ۔ وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ ریاستی پولیس کا آئی ٹی سل بھی نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کررہا ہے ۔ اسی طرح ساری ریاست میں اور بالخصوص حیدرآباد ، سائبر آباد ، رچہ کنڈہ وغیرہ میں سی سی ٹی وی کیمروں کا جال پھیلایا گیا ہے ۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ ہندوستان بھر میں آج جتنے سی سی ٹی وی کیمرے نصب ہیں ان میں تقریبا 64 فیصد کیمرے حیدرآباد ، سائبر آباد وغیرہ میں نصب کئے گئے ہیں ۔ وزیر کے مطابق کورونا وبا کی پہلی اور دوسری لہر کے دوران پولیس اہلکاروں نے غیر معمولی کردار ادا کیا اور درجنوں پولیس والوں نے اپنی جانیں گنوائیں ۔ جناب محمود علی نے سابق ایس پی نواب واجد علی خاں کو زبردست خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے انہیں نوجوان پولیس آفیسرس کے لیے ایک مثالی نمونہ قرار دیا ۔ ابتداء میں نواب واجد علی خاں مرحوم کے فرزند انجینئر امیر محمد علی خاں نے خیر مقدم کیا جب کہ جناب حسینی قادر پیر نے نگرانی کی اور نظامت کے فرائض بھی انجام دئیے ۔ شریمتی دھنا لکشمی انسپکٹر کاچی گوڑہ ٹریفک پولیس ، مسٹر پروین انسپکٹر آف پولیس آئی ٹی سل سی پی آفس ، محمد حبیب اللہ خاں ایس ایچ او کاچی گوڑہ ، مسٹر متھیا ایس ایچ او ماریڈ پلی ، مسٹر نرسنگ راؤ انسپکٹر آف پولیس ایس ایم یو ٹریفک سل ، مسٹر وجئے راجو سب انسپکٹر آئی ٹی سل حیدرآباد ، ماہر تعلیم محمد مسعود احمد خاں ، جاوید فاروقی ایڈوکیٹ ، سپریم کورٹ کے وکیل میر فراست علی شطاری اور دیگر ممتاز شخصیتوں کو ایوارڈس عطا کئے گئے ۔۔