مریض اور رشتہ دار ہراسانی کا شکار ، سرکاری عملہ کا غیر انسانی سلوک
حیدرآباد۔یکم۔نومبر(سیاست نیوز) سرکاری دواخانوں میں رشوت کا چلن معمول بنتا جارہا ہے اور رشوت کے بغیر سرکاری دواخانوں میں بہتر خدمات کا حصول ناممکن ہوتا جا رہاہے ۔ گذشتہ دنوں نیلوفر دواخانہ کے واقعہ کے بعد شہر حیدرآباد کے پرانے شہر میں موجود پیٹلہ برج زچگی خانہ سے اس بات کی متعدد شکایات موصول ہونے لگی ہیں کہ دواخانہ کے عملہ کی جانب سے مریضوں اور ان کے رشتہ دارو ںکو ہراساں کیا جاتا ہے اور انہیں رشوت نہ دینے کی صورت میں ڈاکٹرس تک پہنچنے نہیں دیا جاتا ہے اور بسا اوقات ہراسانی کا یہ عالم ہوتا ہے کہ رشوت نہ دینے کی صورت میں وارڈ میں صفائی نہیں کی جاتی جو کہ مریضوں اور معصوم بچوں کے لئے انتہائی خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔سرکاری دواخانوںمیں خدما ت انجام دینے والے عملہ کی جانب سے اختیار کئے جانے والے اس غیر انسانی سلوک کے سلسلہ میں سابق میں بھی کئی ایک شکایات کی جاچکی ہیں لیکن ان کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی جاتی بلکہ یہ کہا جا تا ہے کہ اگر یہ عملہ نہیں رہا تو خدمات کی انجام دہی کس طرح ممکن ہوگی اسی لئے ان کی غلطیوں کو نظرانداز کیا جانے لگتا ہے اور اس طرح سے نظر انداز کرنے کے سبب درجہ چہارم کا عملہ انتظامیہ کی مجبوری بن جاتا ہے اور وہ یہ تصور کرنے لگتا ہے کہ ا س بغیر کوئی کا م ممکن نہیں ہوتا۔پیٹلہ برج زچگی خانہ کی صورت حال کیا ہے اس بات سے محکمہ صحت کے علاوہ دواخانہ کا انتظامیہ بھی اس بات سے واقف ہے لیکن اس کے باوجود چوکیداروں کے علاوہ لیاب میں خدمات انجام دینے والے عملہ اور صفائی عملہ کی جانب سے کی جانے والی بدعنوانیوں پر سب خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔مریضوں کے رشتہ دارو ںکا کہناہے کہ اگر مریض کو معمول کی تشخیص کے لئے دواخانہ جانا ہوتا ہے تو ایسی صور ت میں اسے 300تا500 روپئے خرچ کرنے پڑتے ہیں اور اور وہ یہ رقم بطور رشوت ادا کرنے کے موقف میں نہیں ہوتا ہے تو ایسی صورت میں اس مریض کا ڈاکٹر سے ملاقات کا نمبر ہی نہیں آتا اسی طرح اگر کوئی مریض دواخانہ میں شریک ہے تو اسے یومیہ کم از کم 300 روپئے خرچ کرنے پڑتے ہیں کیونکہ دواخانہ میں مریض کے رشتہ دار کو داخلہ کیلئے چوکیدار کو رشوت ‘ وارڈ میں صفائی کو یقینی بنانے کے لئے صفائی عملہ کو رشوت کے علاوہ وقت پر ادویات کی فراہمی کیلئے نیم طبی عملہ کو رشوت دینی پڑتی ہے اور جب ڈاکٹرس سے اس بات کی شکایت کی جاتی ہے تو ایسی صورت میں ڈاکٹرس انتظامیہ سے شکایت کرنے اور تحریری طور پر شکایت حوالہ کرنے کا مشورہ دیتے ہیں جبکہ ان سرکاری دواخانوں سے رجوع ہونے والوں میں بڑی تعداد ناخواندہ افراد کی ہوتی ہے جو تحریری شکایت نہیں کرپاتے لیکن ان کی زبانی شکایت پر کاروائی کے بجائے انتظامیہ کا رویہ انہیں بھی مشکوک بناتا ہے۔م