پیٹھ کے درد کے اکثر معاملات میں سرجری کی ضرورت نہیں پڑتی: ڈاکٹر وساوڑا

   

احمد آباد، 16اکتوبر (سیاست ڈاٹ کام) ملک میں ہر پانچ میں سے ایک شخص کو کبھی نہ کبھی پیٹھ کے درد کا تجربہ کرتا ہے پر ایسے 80میں سے 90فیصد معاملات بغیر کسی سرجری کے محض طرز زندگی اور کھانے پینے میں تبدیلی، مناسب ورزش، دواوں اور صحیح طریقہ سے آرام کرنے سے ٹھیک ہوجاتے ہیں۔ورلڈ اسپائن ڈے کے موقع پر آج یہاں معروف ماہر سرجری اور یہاں شیلبی اسپتال کے اسپائن سرجری محکمہ کے صدر داکٹر نیرج وساوڑا نے نامہ نگاروں کو یہ اطلاع دی۔ انہوں نے کہاکہ بدلتی اور کم محنت والی زندگی، فاسٹ فوڈ کے بڑھتے چلن، ورزش کی کمی وغیرہ سے آج پیٹھ کے دردسے متعلق بیماری بڑھتی جارہی ہے ۔ پراچھی بات یہ ہے کہ اس میں سے 80سے 90فیصد کے لئے کسی طرح کی سرجری کی ضرورت نہیں ہے اور انہیں صرف طرززندگی میں تبدیلی او ردیگر اقدامات کے ذریعہ ٹھیک کیا جاسکتا ہے ۔ مسٹر وساوڑا نے بتایاکہ محض دس سے بیس فیصد سنگین قسم کی بیماری میں ہی سرجری کی ضرورت پڑتی ہے ۔جس طرح کینسر اور دل کی بیماریوں کے تعلق سے بیداری پھیلائی جارہی ہے اسی طرح اس مرض کے بارے میں لوگوں کو زیادہ سے زیادہ بتانے کی ضرورت ہے ۔اگر بیماری کی سنگینی قائم رہتی ہے تو جلد ہی ماہر ڈاکٹر کا مشورہ لینا چاہئے ۔ ایک سوال کے جوا ب میں انہوں نے کہاکہ سائٹیکا اپنے آپ میں کوئی بیماری نہیں ہے بلکہ دیگر بیماری کی علامت ہے جو زیادہ تر سلپ ڈسک سے ہوتی ہے ۔ سلپ ڈسک کے بھی بیشتر معاملات مناسب آرام اور دواوغیرہ سے ٹھیک ہوجاتے ہیں۔ بہت سنگین ہونے پر ہی سرجری کی ضرورت پڑتی ہے ۔ انہوں نے سروائکل اسپانڈیلائٹس سے بچنے کے لئے کمپیوٹر پر کام کرنے والوں کو اپنی آنکھیں سیدھے مانیٹر پررکھنے کا مشورہ دیا۔ انہوں نے لوگوں کو زیادہ سے زیادہ فعال طرززندگی اختیار کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ پہلے کے مقابلہ میں بچوں میں بھی جسمانی سرگرمی کم ہونے کی وجہ سے ان میں پیٹھ درد کے معاملات بڑھ رہے ہیں۔