پیٹ کے کیڑوں کے خاتمہ کے لئیے ریاست بھر میں آج طلباء کو گولیوں کی مفت تقسیم ،عوام کے لئیے بھی سہولت کوئی سائئڈ ایفیکٹ نہیں ، اساتذہ کے اجلاس سے ڈاکٹرس کا خطاب

   

Ferty9 Clinic

حیدرآباد 19- جولائی (پریس نوٹ)پیٹ میں پائے جانے والے کیڑوں کے خاتمہ کے لئیے ہر سال قو می سطح پر دو دن ”ڈی وارمنگ ” ڈے منایا جاتا ھے اس سلسلہ میں ریاست تلنگانہ میں بھی 20 جولائی کو ڈی وار منگ ڈے منایا جارہا ہے اس سلسلہ میں ریاست بھر کے سر کاری ونیم سرکاری مدار س کے علاوہ پرائمری ہیلت سنٹرس پر بھی ایک سال سے لے کر 19سال کے بچوں کو پیٹ کے کیڑے ختم ہونے کے لئے گولیاں دی جائیں گی ان خیالات کا اظہار سینیئر میڈیکل آفیسرس کی ایک ٹیم نے چار مینار منڈل کے سرکاری ‘ خانگی اور امدادی مدارس کے صدور اور دیگر ذمہ داران کے اجلاس سے کیا جو سکسیس اسکول پرانی حویلی میں منعقد ہوا ۔ ڈسٹرکٹ میڈیکل اینڈ ہلت آفیسر حیدرآباد ڈاکٹر وینکٹی کی ہدایت پر منعقدہ اس اجلاس کی صدارت سینئیر پبلک ہلت آفیسر دبیر پورہ محترمہ انجیلا الفریڈ نے کی ۔ ڈاکٹر عائشہ مدثر سینئیر میڈیکل آفیسر اربن پرائمری ہیلت سنٹریاقوت پورہ ، ڈاکٹر فرح ناز میڈیکل آفیسراربن پرائمری ہلت سنٹر یاقوت پورہ ڈاکٹرثناء یاسمین میڈیکل آفیسر اربن پرائمری ہلت سنٹر دبیر پورہ نے اجلاس کو بتایا کہ طلبا ء وطالبات کو اسکولس وکالجس کے علاوہ عام لوگوں کو یہ ٹیابلیٹ پرائمری ہلت سنٹرس پر مفت دی جائیں گی ایک سال سے لیکر 19 سال کی عمر والوں کو یہ گولیاں دی جائیں گی بڑی عمر کے لوگ بھی یہ گولیاں استعمال کر سکتے ہیں اس کے کوئی سائیڈ ایفکیٹس (مضر اثرات) نہیں ہیں ۔ ڈاکٹرس نے یہ بھی بتایا کہ اگر 20 – جولائی کو یہ گولی نہ کھائیں تو دوسرے مرحلہ میں 27- جولائی کو بھی یہ گولیاں اسکولس ‘ کالجس کے علاوہ پرائمری ہلت سنٹرس پر مفت سربراہ کی جائیں گی ڈاکٹرس نے اساتذہ کوبتایاکہ بچوں میں یہ شعور بھی بیدار کیا جائے کہ وہ جب بھی بیت الخلاء سے واپس ہوں ہاتھوں کو صابن سے اچھی طر ح دھولیں اسی طرح کھانا کھانے سے پہلے بھی ہاتھوں کو لازمی طورپر اچھی طرح دھو لینا چاہئیے اس کے علاوہ جب بھی کوئی پھل کھائیں انہیں اچھی طرح دھولیں زیادہ چکنائی والی چیزوں کے استعمال سے بھی سختی سے پرہیز کرنا ضروری ہے اس موقع پراحمد رفیع الدین ،اعجاز محی الدین’ محمد حسام الدین ،ڈاکٹر محمد طیب پاشاہ قادری ‘ایم نریندر ریڈی ،محترمہ رئیسہ شہناز’ڈاکٹر سیدہ گوہر ‘محترمہ اسماء دردانہ ‘ محترمہ نور النساء ‘ آئی سریتا ‘ محترمہ سعدیہ بتول ‘ محترمہ نورجہاں اور دیگر ہیڈماسٹرس واساتذہ کے علاوہ پیرامیڈیکل اسٹاف ‘آشاورکرس ‘ اور دیگرطبی عملہ موجود تھا۔