پیگاسس جاسوسی کیس: سپریم کورٹ کا مرکزی حکومت کو نوٹس

   

سپریم کورٹ نے پیگاسس جاسوسی کیس پر مرکزی حکومت کو نوٹس جاری کیا۔ عدالت نے واضح کیا کہ وہ حکومت کو قومی سلامتی کے نقطہ نظر سے کوئی حساس کام کرنے پر مجبور نہیں کررہی ہے۔ چیف جسٹس این وی رمنا کی سربراہی میں بنچ نے کہا کہ ہم داخلہ سے پہلے نوٹس جاری کر رہے ہیں۔ کمیٹی کی تشکیل کا فیصلہ بعد میں کیا جائے گا۔ عدالت نے 10 دن بعد معاملے کی سماعت کا حکم دیا۔سماعت کے آغاز پر سینئر وکیل کولن گونزالویز نے کہا کہ میں نے سافٹ ویئر فریڈم لاء سینٹر کی جانب سے درخواست دائر کی ہے۔ یہ ایک ماہر تنظیم ہے۔ پھر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کو بھی سنا جائے گا۔ عدالت نے سالیسیٹر جنرل تشار مہتا سے پوچھا کہ کیا آپ مزید حلف نامہ داخل نہیں کرنا چاہتے؟ پھر مہتا نے کہا کہ حکومت ہند عدالت کے سامنے ہے۔ درخواست گزار چاہتے ہیں کہ حکومت سافٹ وئیر کے بارے میں بتائے جس سے پتہ چلے کہ یہ کون ساہے ، کون سا نہیں ہے۔ یہ سب کچھ قومی سلامتی کے مفاد میں حلف ناموں کی صورت میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ ہم ماہر کمیٹی کو سب کچھ بتائیں گے۔