درخواست گذاروں سے ثبوت کی طلبی‘سماعت 10 اگست تک ملتوی،مرکزکوکوئی نوٹس نہیں
نئی دہلی : سپریم کورٹ نے جمعرات کو پیگاسس جاسوسی کیس میں درخواستوں کی کاپیاں مرکزی حکومت کو حوالے کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ اگر میڈیا رپورٹس سچ ہیں تو الزامات سنگین ہیں۔عدالت نے معاملہ کی سماعت اگلے منگل کے لیے مقرر کی ، لیکن مرکزی حکومت کو کوئی باقاعدہ نوٹس جاری نہیں کی گئی۔چیف جسٹس این وی رمن اور جسٹس سوریہ کانت پر مشتمل ڈویژن بنچ نے تمام درخواست گزاروں کے وکلاء کے دلائل سننے کے بعد انہیں درخواستوں کی کاپی مرکزی حکومت کے حوالے کرنے کی ہدایت دی۔ سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ ڈویژن بنچ مرکزی حکومت کی موجودگی کے بغیر معاملے کی مزید سماعت نہیں کرسکتی۔ تاہم عدالت نے ابھی تک اس معاملے میں باضابطہ نوٹس جاری نہیں کیا ہے ۔دوران سماعت چیف جسٹس نے کہا کہ صحافیوں ، اپوزیشن رہنماؤں اور سماجی کارکنوں کی جاسوسی کا معاملہ اہم ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر میڈیا رپورٹس درست ہیں تو یہ الزام انتہائی سنگین ہے ۔سپریم کورٹ نے معاملہ کی آزادانہ تحقیقات داخل کردہ 9درخواستوں کی بیک وقت سماعت کی ۔ درخواست گذاروں میں ایڈیٹرس گلڈ آف انڈیا ‘ اور سینئر صحافیوں این رام اور ششی کمار بھی شامل ہیں ۔سپریم کورٹ کی دو ججوں کی بنچ نے سماعت کے دوران درخواست گذاروں سے جاسوسی کے ثبوت طلب کئے ۔ عدالت نے کہا کہ اس معاملہ میں بیرونی کمپنیاں بھی شامل ہیں ۔ عدالت نے کہا کہ یہ ایک پیچیدہ مسئلہ ہے اور نوٹس لینے کیلئے مرکزی حکومت کی جانب سے کسی کو پیش ہونا چاہئے۔عدالت نے اس کی آئندہ سماعت 10اگست کو مقرر کی ہے ۔سماعت کے دوران چیف جسٹس این وی رمنا نے کہا کہ یہ حیرت کی بات ہے ک ہ 2019میں پیگاسیس کا معاملہ سامنے آیااور کسی نے اس جاسوسی معاملہ تصدیق کے حوالے سے ثبوت جمع کرنے کی سنجیدہ کوشش نہیں کی ۔انہوں نے کہا کہ بیشتر مفاد عامہ کی درخواستوں میں قومی اور وبین الاقوامی میڈیا کے اخبارات کی کترن ہے ۔انہوں نے کہا کہ یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اس معاملہ کے تعلق سے کوئی مواد بالکل موجود نہیں ہے ۔جن افراد نے درخواست داخل کی ہے ان کے فون ہیگ ہوئے ہیں ۔چیف جسٹس نے کہا کہ وہ یہ کہنا نہیں چاہتے کہ دلیلوں میں کچھ بھی نہیں ہے کیونکہ چند درخواست گذاروں کا دعویٰ ہے کہ ان کے فون ہیگ ہوگئے لیکن انہوں نے اس سلسلہ میں مجرمانہ شکایت درج نہیں کروائی ہے ۔آئی ٹی قوانین سے واقف ہونے کے باوجود ایسا نہیں کیا گیا یہ حیرت کی بات ہے ۔اس پر سینئر وکیل کپل سبل نے کہا کہ اطلاعات تک انہیں رسائی حاصل نہیں ہے ۔ایڈیٹرس گلڈ کی درخواست میں جاسوسی کے 37مصدقہ معاملوں کا ذکر ہے ۔