سپریم کورٹ میں این رام اور ششی کمار کی عرضی پر 5 اگسٹ کو سماعت
نئی دہلی : پانچ صحافی سپریم کورٹ سے رجوع ہوئے ہیں اور اُن کا استدلال ہے کہ حکومتی اداروں کی جانب سے جاسوسی اور غیر ضروری نگرانی نے اُن کے بنیادی حقوق کو متاثر کیا ہے اور وہ پیگاسیس اسپائی ویر کے استعمال سے راست طور پر زد میں آئے ہیں۔ درخواست گذار صحافی پرانجوئے گوہا ٹھاکرتا، ایس این ایم عابدی، پریم شنکر جھا، روپیش کمار سنگھ اور ایپسا شتاکشی نے فاضل عدالت سے اپیل کی ہے کہ مرکز کو ہدایات جاری کی جائیں کہ وہ تمام مواد اور دستاویزات کا انکشاف کرے جو اُن کے خلاف پیگاسیس کے استعمال کے ذریعہ اُن کی جانکاری میں آئے ہیں۔ درخواست گذاروں نے کہا ہے کہ اِس معاملہ کی جامع تحقیقات ہونا چاہئے۔ اُنھوں نے الزام عائد کیاکہ اُنھیں حکومت کی جانب سے قابل اعتراض نگرانی اور ہیکنگ کا نشانہ بنایا گیا یا پھر اِس میں کوئی تیسرا فریق ملوث ہوسکتا ہے۔ گزشتہ ماہ ویٹرن جرنلسٹ این رام اور ششی کمار نے فاضل عدالت سے رجوع ہوکر پیگاسیس جاسوسی اسکینڈل کی کسی برسر خدمت یا ریٹائرڈ جج کے ذریعہ آزادانہ تحقیقات کے لئے ہدایت جاری کرنے کی استدعا کی تھی۔ ایڈوکیٹ ایم ایل شرما اور سی پی آئی (ایم) راجیہ سبھا ممبر جان بریٹاس بھی جاسوسی کے الزامات کی تحقیقات کی استدعا کے ساتھ فاضل عدالت سے رجوع ہوئے ہیں۔ چیف جسٹس این وی رمنا اور جسٹس سوریہ کانت کی بنچ پیگاسیس جاسوسی سے متعلق معاملوں کی 5 اگسٹ کو سماعت کرنے والی ہے۔ ایڈوکیٹ آن ریکارڈ پراتیک چڈھا کی داخل کردہ عرضی میں اس طرح کی معاندانہ نگرانی سے صحافتی ذرائع اور مخبری کرنے والوں سے درپیش خطرے کا حوالہ دیا۔ درخواست گذاروں نے عدالت سے اپیل کی کہ ضروری مداخلت کرتے ہوئے یقینی بنایا جائے کہ آزاد صحافت بدستور قائم رہے اور یہ بھی دیکھا جائے کہ عدالتی نگرانکار میکانزم فعال برقرار رہے تاکہ رازداری اور ہیکنگ پر غیر قانونی ضرب سے متعلق شکایات سے نمٹا جاسکے۔