پی ایف آئی کارکنوں کیخلاف این آئی اے کی تازہ کارروائی

,

   

بہار ، یو پی کے بشمول پانچ ریاستوں میں 17 مقامات پر چھاپے ، مخالف قوم سرگرمیوں کا الزام

نئی دہلی : ممنوعہ پاپولر فرنٹ آف انڈیا کے کارکنوں کے خلاف تازہ کارروائی میں نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) اتر پردیش، بہار، مدھیہ پردیش، گوا اور پنجاب کے لدھیانہ میں ایک درجن سے زیادہ مقامات پر تلاشی لے رہی ہے۔ذرائع نے بتایا کہ این آئی اے کی متعدد ٹیمیں ریاستی پولیس فورسز کے ساتھ قریبی تال میل میں چھاپوں میں مصروف ہیں۔انسداد دہشت گردی ایجنسی نے یہ چھاپے اتر پردیش، بہار، پنجاب اور گوا میں پی ایف آئی کے ہمدردوں اور کیڈروں کے ٹھکانوں اور مشتبہ مقامات پر ان اطلاعات کی بنیاد پر کیے کہ تنظیم کے کئی اوور گراؤنڈ ورکرز (OGW) ملک مخالف سرگرمیوں میں ملوث تھے ۔ بہار میں ممنوعہ تنظیم پاپولر فرنٹ آف انڈیا سے متعلق معاملے میں این آئی اے نے دربھنگہ شہر کے اردو بازار میں واقع دندان ساز (ڈینٹسٹ)ڈاکٹر شارق رضا اور سنگھواڑہ تھانہ علاقہ کے شنکر پور گاؤں کے رہنے والے محبوب پر چھاپہ مارا۔حکومت ہند نے پاپولر فرنٹ آف انڈیا پر دہشت گردوں کی فنڈنگ اور دیگر سرگرمیوں کی وجہ سے پانچ سال کے لیے پابندی لگا دی ہے۔ وزارت داخلہ نے یو اے پی اے ایکٹ کے تحت اس تنظیم پر پابندی لگا دی ہے۔ پی ایف آئی کے علاوہ ان کی ایسوسی ایٹ تنظیموں ری ہیب انڈیا فاؤنڈیشن، کیمپس فرنٹ آف انڈیا، آل انڈیا امام کونسل، نیشنل کنفیڈریشن آف ہیومن رائٹس آرگنائزیشن، نیشنل ویمن فرنٹ، جونیئر فرنٹ، ایمپاور انڈیا فاؤنڈیشن اور ری ہیب فاؤنڈیشن (کیرالہ) پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے۔پی ایف آئی تین مسلم تنظیموں کے ذریعے تشکیل دی گئی تھی۔پی ایف آئی کی تشکیل 2007 میں جنوبی ہندوستان میں تین مسلم تنظیموں، کیرالہ میں نیشنل ڈیموکریٹک فرنٹ، کرناٹک فورم فار ڈگنیٹی اور تمل ناڈو میں مانیتھا نیتی پسارائے کے انضمام کے ذریعے کی گئی تھی۔