پی جے کورین کمیٹی کی مشاورت مکمل ، 21 جولائی کو ہائی کمان کو رپورٹ

   

ارکان اسمبلی اور شکست خوردہ امیدواروں سے ملاقات، بی جے پی ووٹ بینک میں اضافہ کی وجوہات کا جائزہ
حیدرآباد ۔ 12۔ جولائی (سیاست نیوز) تلنگانہ میں لوک سبھا انتخابات میں کانگریس کے کمزور مظاہرہ کا جائزہ لینے کیلئے پہنچی اے آئی سی سی کمیٹی نے آج اپنا کام مکمل کرلیا ہے۔ راجیہ سبھا کے سابق ڈپٹی چیرمین پی جے کورین کی زیر قیادت کمیٹی نے آسام کے رکن پارلیمنٹ رقیب الحسین اور پنجاب کے رکن اسمبلی پرگت سنگھ شامل تھے۔ گزشتہ دو دنوں میں کمیٹی نے اسمبلی اور لوک سبھا کے منتخب ارکان کے علاوہ شکست خوردہ امیدواروں سے انفرادی طور پر ملاقات کرتے ہوئے معلومات حاصل کی۔ اسمبلی اور لوک سبھا حلقہ جات کے انچارجس کو بھی کمیٹی نے طلب کرتے ہوئے ان کی رائے حاصل کی ہے۔ اسمبلی اور لوک سبھا انتخابات میں پارٹی کے ووٹ فیصد میں فرق کی وجوہات کے بارے میں قائدین سے سوالات کئے گئے۔ گاندھی بھون میں ہر امیدوار سے 30 منٹ تک علحدگی میں بات چیت کی گئی اور انچارج کے علاوہ عوامی نمائندوں کے تعاون کے بارے میں معلومات حاصل کی گئیں۔ بیشتر شکست خوردہ امیدواروں نے 8 حلقہ جات میں بی جے پی کی کامیابی کیلئے بی آر ایس کو ذمہ دار قرار دیا اور کہا کہ بی آر ایس نے اپنا ووٹ بینک بی جے پی کو منتقل کیا۔ 16 لوک سبھا حلقہ جات کے امیدواروں نے کمیٹی کو اپنی رپورٹ پیش کی۔ کمیٹی نے آج ارکان اسمبلی اور شکست خوردہ امیدواروں سے ملاقات کی۔ دو دن میں مشاورت کا عمل مکمل کرلیا گیا اور 21 جولائی کو کمیٹی ہائی کمان کو اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔ اسی دوران نظام آباد اربن اسمبلی حلقہ سے مقابلہ کرنے والے محمد علی شبیر نے کمیٹی کو نظام آباد اور ظہیر آباد لوک سبھا حلقہ جات کی صورتحال سے واقف کرایا ۔ انہوں نے کہا کہ ظہیر آباد لوک سبھا حلقہ کے تحت کاما ریڈی اسمبلی حلقہ میں کانگریس کو 11611 ووٹوں کی اکثریت حاصل ہوئی۔ نظام آباد لوک سبھا حلقہ میں بی جے پی کامیاب رہی لیکن نظام آباد اربن اسمبلی حلقہ میں کانگریس کو بی جے پی سے زائد ووٹ حاصل ہوئے۔ انہوں نے کہاکہ پانچ اسمبلی حلقہ جات میں کانگریس کے ووٹ فیصد میں اضافہ ہوا ہے ۔ 1