ریاستی حکومت کی جانب سے اشتہارات اور تقاریب سے مسلمانوں کو لاعلم رکھنے کی کوشش
الیکشن کا سال
حیدرآباد 30 جون(سیاست نیوز) انتخابات سے عین قبل بی آر ایس کو نرسمہا راؤ سے محبت ہوگئی اور نرسمہا راؤ کے یوم پیدائش پر حکومت سے نہ صرف سرکاری تقاریب منعقد ہوئیں بلکہ انگریزی و تلگو اخبارات میں اشتہارات دے کر نرسمہا راؤ کو خراج عقیدت پیش کیا گیا ۔28 جون کو نرسمہا راؤ کی 102ویں یوم پیدائش پر حکومت سے خصوصی اشتہارات جاری کرکے خراج پیش کرنے کے علاوہ ان کی ستائش کی گئی ۔ وزیر بلدی نظم و نسق کے ٹی راما راؤ نے ٹوئیٹر پر بھی سابق وزیر اعظم نرسمہا راؤ کی ستائش کرکے انہیں ایک دوراندیش اور قدآور قائد قرار دیا اور کہا کہ کانگریس نے نرسمہا راؤ کی نہ صرف تذلیل کی بلکہ ان کی موت کے بعد آخری رسومات دہلی میں کرنے سے انکار کرکے ان کی توہین کی گئی۔6 ڈسمبر 1992 کو بابری مسجد کی شہادت کیلئے ذمہ دار اس وقت کے وزیر اعظم نرسمہا راؤ کے متعلق مسلمانوں میں نفرت کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ 1992 میں کانگریس حکومت میں بابری مسجد کی شہادت کے بعد 10 سال تک مسلمانوں سے کانگریس کو اقتدار سے محروم کردیا تھا۔ کانگریس نے اس کا اندازہ ہونے کے بعد مسلمانوں سے نہ صرف معذرت کی بلکہ نرسمہا راؤ کی وجہ سے پارٹی کو نقصان کے سبب انہیں غیر اہم بنا دیا تھا ۔ کانگریس سے نرسمہا راؤ کو غیر اہم کئے جانے کے بعد بی آر ایس نے نرسمہا راؤ کو قدآور لیڈر کے طور پر پیش کرنے نہ صرف ان کی سمادھی کو پی وی گیان بھومی کے نام سے ترقی دی بلکہ ان کی دختر کو ایم ایل سی بناکر نرسمہا راؤ کے خاندان کو اہمیت دینے کی کوشش کی گئی ۔ حکومت نے نکلس روڈ پر نرسمہا راؤ کا مجسمہ نصب کیا اور اس کی تنصیب کے بعد کئی اعتراضات کئے گئے تھے لیکن حکومت سے مجسمہ کی نقاب کشی عمل میں لائی گئی تھی۔ حکومت سے پی وی نرسمہا راؤ کی یوم پیدائش پر انہیں پیش کئے گئے خراج عقیدت اور اشتہارات کے ذریعہ انہیں اہمیت دینے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ حکومت پی وی نرسمہا راؤ سے محبت رکھتی ہے اور مسلمانوں کو نرسمہا راؤ سے نفرت کی وجوہات سے واقفیت کے سبب مسلمانوں کو نرسمہا راؤ کے متعلق پروگرامس سے واقف نہیں کروایا گیا اور انہیں خراج کی پیشکشی کے اشتہارات کو محض تلگو و انگریزی تک محدود رکھا گیا۔ حکومت کی نرسمہا راؤ سے محبت کی یہ کوئی پہلی مثال نہیں ہے بلکہ سابق میں بھی چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ نے ایسی کئی مثالیں پیش کرکے نرسمہا راؤ کو اپنا سیاسی گرو قراردیا ہے۔تلنگانہ انتخابات سے قبل کانگریس کے سواء دیگر جماعتیں بالخصوص بی جے پی اور بی آر ایس سے نرسمہا راؤ کو اہمیت دے کر انہیں تلنگانہ کے سپوت قدآور سیاسی قائد کے علاوہ بہترین حکمراں کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جبکہ کانگریس نے برائے نام پی وی نرسمہا راؤ کو خراج پیش کیا اور سابق وزیر اعظم سے لاتعلقی کا رویہ کانگریس قائدین نے اختیار کیا ہوا ہے۔م