چیف منسٹر کا اتفاق ، عبوری الاونس اور پی آر سی تشکیل کیلئے عنقریب احکامات
حیدرآباد ۔ 29 ۔ ستمبر : ( سیاست نیوز ) : حکومت سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں نظر ثانی کرنے کے لیے سابق چیف سکریٹری اور حکومت کے سابق مشیر شیلندر کمار جوشی کو پے رویژن کمیشن ( پی آر سی ) کا صدر نشین بنانے پر سنجیدگی سے غور کررہی ہے ۔ ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ چیف منسٹر کے سی آر بھی ان کے حق میں ہے ۔ اس سلسلے میں عنقریب احکامات جاری ہونے کے امکانات ہیں ۔ یکم جولائی سے تنخواہوں میں اضافہ ہونا تھا تاہم ابھی تک پی آر سی تشکیل نہ دینے اور ساتھ ہی کم از کم عبوری الاونس ( آئی آر ) کا اعلان نہ کرنے سے سرکاری ملازمین ، ٹیچرس ، پنشنرس سخت ناراضگی کا اظہار کررہے ہیں ۔ واضح رہے کہ اسمبلی کے پلیٹ فارم سے چیف منسٹر کے سی آر نے پی آر سی تشکیل دیتے ہوئے عبوری الاونس جاری کرنے کا وعدہ کیا تھا ۔ لیکن اس پر ابھی تک عمل آوری نہیں ہوئی ۔ جس سے سرکاری ملازمین اور وظیفہ یابوں میں بے چینی پھیلی ہوئی ہے ۔ انتخابات کا سامنا کرنے سے قبل حکومت کابینہ کا اجلاس طلب کرنے پر غور کررہی ہے ، جس میں سرکاری ملازمین کے مسائل کے علاوہ دیگر مسائل کو حل کرنے کے قوی امکانات ہیں ۔ ریاست میں مسلسل دوسری مرتبہ اقتدار حاصل کرنے والی بی آر ایس تیسری مرتبہ حکومت تشکیل دینے کے لیے کابینہ کے اجلاس میں اہم فیصلے کرنے کی حکمت عملی تیار کررہی ہے ۔ جس میں پی آر سی ، عبوری الاونس کے علاوہ سرکاری ملازمین کی ہیلت اسکیم ( ای ایچ ایس ) بھی شامل رہنے کی توقع کی جارہی ہے ۔ تاہم پے ریویژن کمیشن کا صدر نشین کس کو بنایا جائے اس پر ہنوز کوئی فیصلہ نہیں ہوا ہے ۔ چند ریٹائرڈ آئی اے ایس آفیسرس کے ناموں پر غور کیا گیا ہے ۔ سرویس میں رہنے والے چند آئی اے ایس آفیسرس کے نام بھی زیر غور ہے ۔ حکومت کے مشیر راجیو شرما کو ہدایت دی گئی ہے کہ ایمپلائز فرینڈلی اور تنازعات سے دور رہنے والے موجودہ اور ریٹائرڈ عہدیداروں کے نام پیش کریں ۔ سابق چیف سکریٹری اور حکومت کے سابق مشیر ایس کے جوشی کا نام چیف منسٹر کو پیش کیا گیا ہے جس سے چیف منسٹر نے بھی اتفاق کرنے کی اطلاعات ہے ۔ دوسری جانب سابق چیف سکریٹری سومیش کمار بھی انہیں پی آر سی کا صدر نشین بنانے پر زور دے رہے ہیں تاہم وہ تلنگانہ کیڈر کے آئی اے ایس نہیں ہے اور دھرانی پورٹل تنازعہ بھی ان سے جڑا ہوا ہے ۔ لہذا ان کے نام پر زیادہ غور کرنے کے امکانات نہیں ہے ۔ ایس کے جوشی حکومت کے مشیر تھے جن کی میعاد ایک سال قبل ختم ہوگئی ہے اور وہ فی الحال خالی ہے جب کہ سومیش کمار ابھی بھی حکومت کے مشیر ہے ۔ اس لیے جوشی کے نام پر زیادہ غور کیا جارہا ہے ۔ راجیو شرما نے اس معاملے میں جوشی سے تبادلہ خیال کیا ہے ۔ جس پر ان کی رضا مندی حاصل ہونے کی اطلاعات بھی موصول ہورہی ہے ۔ پہلے سے طئے شدہ شیڈول کے مطابق 29 ستمبر کو کابینہ کا اجلاس منعقد کیا جانا تھا ۔ تاہم چیف منسٹر کی ناسازی صحت کے باعث اکٹوبرو کے پہلے ہفتہ میں کابینہ کا اجلاس منعقد ہونے کی توقع کی جارہی ہے ۔۔ ن