نئی دہلی: چائلڈ پورنوگرافی سے متعلق کیس میں کیرالا ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف دائر درخواست پر سپریم کورٹ نے ملزمین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 2 ہفتوں میں جواب طلب کیا ہے۔ کیرالا ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ اگر آپ اکیلے پورن دیکھ رہے ہیں تو یہ جرم نہیں ہے، لیکن اگر آپ دوسروں کو بھی دکھا رہے ہیں تو یہ غیر قانونی ہے۔ جس کے خلاف ’’بچپن بچاؤ‘‘آندولن نام کی ایک این جی او نے درخواست دائر کی ہے۔ جس پر چیف جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ کی سربراہی والی بنچ اس کیس کی سماعت کر رہی ہے۔کیرالا ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ اگر کوئی شخص نجی طور پر فحش تصاویر یا ویڈیو دیکھ رہا ہے تو یہ آئی پی سی کی دفعہ 292 کے تحت جرم نہیں ہے۔ لیکن اگر وہ کسی اور کو فحش تصاویر یا ویڈیوز دکھا رہا ہے یا انہیں عوام میں دکھانے کی کوشش کر رہا ہے تو یہ دفعہ 292 کے تحت جرم ہوگا۔