سینکڑوں بچوں کو مزدوری سے بچالیا گیا،گمشدہ بچوں کی تفصیلات آن لائن پر درج
حیدرآباد۔یکم ؍ اگسٹ، ( سیاست نیوز) چائیلڈ لیبر اور گداگری سے بچوں کو نجات دلانے کیلئے عہدیداروں نے حیدرآباد اور سائبرآباد کے حدود میں مہم تیز کردی ہے۔ جولائی کے دوران آپریشن مسکان کے تحت سائبرآباد کے حدود میں 453 بچوں کو بچہ مزدوری، گداگری اور کچرا جمع کرنے کے پیشوں سے نجات دلائی گئی ہے۔ 205 مقدمات ایسے آجرین کے خلاف درج کئے گئے جو اپنے کاروبار میں بچوں کو بحیثیت لیبر استعمال کررہے تھے۔ عہدیداروں نے بتایا کہ گداگری سے49 بچوں کو بچایا گیا جبکہ 37 بچے ایسے ہیں جو گمشدہ تھے پولیس کے ذریعہ انہیں ارکان خاندان تک پہنچایا گیا۔ حکام نے درپن ایپ پر بچوں کی تفصیلات پیش کی جہاں ان کے والدین تک معلومات پہنچ سکتی ہیں۔ نجات دلائے گئے بچوں میں تلنگانہ سے تعلق رکھنے والے 251 لڑکے اور 59 لڑکیاں ہیں جبکہ 132 لڑکے اور 11 لڑکیوں کا تعلق دیگر ریاستوں سے ہے۔ لاء اینڈ آرڈر پولیس، شی ٹیم ، مخالف انسانی اسمگلنگ یونٹ اور چائیلڈ ویلفیر کے عہدیداروں پر مشتمل ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں جو مختلف صنعتوں، کمپنیوں اور دیگر تجارتی اداروں کا معائنہ کرتے ہوئے چائیلڈ لیبر سرگرمیوں کا پتہ چلا رہی ہیں۔ ایک ماہ طویل آپریشن مسکان کے تحت راچہ کنڈہ پولیس اسٹیشن حدود میں 259 بچوں کو بچایا گیا جن میں سے 82 لڑکیاں ہیں۔ یہ بچے چائیلڈ لیبر اور گداگری میں ملوث تھے۔ خصوصی ٹیموں نے مختلف صنعتی اداروں اور تجارتی اداروں پر اچانک دھاوے کرتے ہوئے ان بچوں کو بچایا ہے۔ عہدیداروں کے مطابق بچوں کا تعلق مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ اور بہار سے ہے۔ پولیس نے 32 آجرین کے خلاف بچوں کو مزدوری پر رکھنے کے جرم میں مقدمات درج کئے ہیں۔ اس خصوصی مہم کا مقصد کمسن بچوں کو محنت مزدوری اور دیگر برائیوں سے محفوظ رکھتے ہوئے تعلیم کی طرف راغب کرنا ہے۔ عہدیداروں نے بتایا کہ 24 بچوں کو مختلف ٹریفک جنکشنس پر گداگری کے دوران حراست میں لیا گیا۔ 259 بچوں میں 117 لڑکے اور 38 لڑکیوں کا تعلق تلنگانہ سے ہے جبکہ 60 لڑکے اور 44 لڑکیوں کا تعلق دیگر ریاستوں سے بتایا جاتاہے۔ ان بچوں کو لالچ کے ذریعہ کام پر لگایا گیا یا پھر ان کے والدین کو رقم ادا کرتے ہوئے حاصل کیا گیا۔ گمشدہ بچوں کی تصاویر اور تفصیلات درپن ایپ پر اپ لوڈ کی گئیں۔
